حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ جب شام سے مدینہ آئے تو اپنے ساتھ کچھ قندیلیں اور تھوڑا سا تیل بھی لے آئے۔ مدینہ پہنچ کر قندیلوں میں تیل ڈال کر مسجد نبوی میں لٹکا دیں اور جب شام ہوئی تو انہیں جلا دیااس سے پہلے مسجد نبوی میں کبھی روشنی نہیں ہوئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں تشریف لائے تو مسجد کو روشن دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور پوچھا کہ مسجد میں روشنی کس نے کی؟
صحابہ نے حضرت تمیمداری رضی اللہ عنہ کا نام بتایا تو آپ ان سے بہت خوش ہوئے ان کو دعائیں دی اس وقت وہاں نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ میں اپنی بیٹی ام المغیرہ رضی اللہ عنہا کو پیش کرتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مجلس میں حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کا نکاح ام المغیرہ سے کردیا(سیر الصحابہ جلد 4 صفحہ 40 )



















































