منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

مدرسے کا پڑھا ہوا

datetime 7  ستمبر‬‮  2017 |

جب بچپن میں، میں مدرسے میں پڑھنے جاتا تو ہمارے علاقے کے کئی لوگ مجھ سے کہا کرتے کہ بیٹے! کیوں اپنا مستقبل خراب کررہے ہو؟ کیا تمہیں بڑے ہوکر مردے نہلانے کی نوکری کرنی ہے؟ مدرسے میں پڑھنے والے کو غسال کے علاوہ کوئی روزگار مل سکتا ہے؟ لہٰذا کسی اچھے اسکول میں داخلہ لے لو اور اپنا مستقبل سنوارنے کی فکر کرو۔ اس قسم کی نصیحت کرنے والوں میں زیادہ تر بوڑھے ہوتے اور میں بڑے ادب سے ان کی باتیں سنتا اور مسکراتے ہوئے اپنی کتابیں بغل میں دبائے مدرسۃ امام الخطیب کی طرف گامزن ہوتا۔

میرے والد پھل فروش تھے۔ ان کے مالی حالات اس بات کے متحمل نہیں تھے کہ وہ مجھے کسی اسکول میں ڈالتے، ہمارے گھر میں بعض اوقات سالن کے بجائے خربوزے کے ساتھ روٹی کھائی جاتی۔ پھر والد کی دین سے کی دین سے والہانہ محبت تھی کہ مجھے حفظ قرآن کی کلاس میں ڈال دیا تھا۔ پھر وقت گولی کی رفتار سے چلتا رہا اور میں نے استنبول کے اسی مدرسے سے 1973ء میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ قرآن مجید تجوید کے ساتھ حفظ کیا۔ گو کہ بعد میں یونیورسٹی سے بھی پڑھا۔ میں نے ترکی کی معروف مرمرہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور اکنامکس اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنس میں ماسٹر کیا۔ مگر ابتدائی تعلیم مدرسے سے ہی حاصل کی تھی۔ اب جب بھی مجھے ان بزرگوں کی نصیحتیں یاد آتی ہیں اور خود پر کریم رب کی رحمتوں کی بارش دیکھتا ہوں تو بے اختیار آنکھیں چھلک پڑتی ہیں۔ یہ کہہ کر طیب اردگان نے حاضرین کو بھی اشک بار کر دیا۔ یہ باتیں عالم اسلام کے مقبول ترین لیڈر طیب اردگان نے ایک فورم پر خطاب کرتے ہوئے کیں۔ ٹویٹرپرسب سے زیادہ فالورز انہی کے ہیں اور ان میں بھی ستر فیصد عرب ہیں۔ اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینے کے بعد عرب دنیا میں انہیں ‘البطل’ (ہیرو) کا خطاب مل چکا ہے۔ یاد رہے اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ بچے ترکی کے دینی مدارس میں زیر تعلیم ہیں۔ 2015ء کے اوائل میں جاری اعدادوشمار کے مطابق ان طلبہ کی تعداد 40 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔ تاہم وہاں کے مدارس کا نظام تعلیم بھی مکمل جدید خطوط پر استوار ہے۔

کاش کہ ہمارے یہاں بھی ایسا نظام ہوتا تو ہمیں بھی گستاخوں کی سزا کیلئے کوئی مہم چلانے کی ضرورت نہ پڑتی‘ ہمارے ججوں سے لے کر وکلاء تک، صدر و وزیر اعظم سے لے کر ممبران اسمبلی تک، ساری ریاستی مشینری خود ہی یہ کام سنبھال لیتی۔ کاش

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…