کسی مالدار بخیل کا بیٹا بہت سخت بیمار ہو گیا۔ دوا دارو کرنے کے باوجود بھی بخار کا زور نہ اترا تو کسی نیک دل شخص نے اسے مشورہ دیا کہ قرآن مجید ختم کراؤ یا بکرے کا صدقہ دو۔”یہ سن کر مالدار بخیل سوچ میں پڑ گیا اور پھر بولا۔” قرآن مجید ختم کرنا زیادہ مناسب ہےکیونکہ منڈی دور ہے اور آنے جانے میں بہت وقت ضائع ہوگا۔
”اس کی یہ بات سن کر نیک آدمی نے کہا۔” قرآن مجید ختم کرنا اس لیے پسند آیا کہ قرآن اس کی نوک زبان پر ہے اور روپیہ اس کی جان میں اٹکا ہوا ہے۔”حاصل کلام؛بخیل وقت کی نزاکت کو مدنظر رکھنے کی بجائے ہمیشہ دولت کو دیکھتا ہے خواہ دولت نہ خرچ کرکے نقصان ہیاٹھانا پڑے۔