منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

دودھ کا پیالہ

datetime 21  جولائی  2017 |

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میری بھوک کا یہ حال ہوتا کہ میں اپنا کلیجہ زمین پر ٹیک کر لیٹ جاتا تھا اور کبھی پیٹ پر پتھرباندھ لیتا تھا‘ ایک دفعہ میں راستے میں بیٹھ گیا‘وہاں پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا‘ میں نے ان سے قرآن کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا‘ اس سے میرا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں مگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا‘

اس کے بعد وہاں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ گزرے‘ میں نے ان سے بھی ایک آیت کے بارے میں پوچھا‘ان سے سوال کرنے کا مقصد بھی ان کے ساتھ جانے کا تھا مگر انہوں نے بھی مجھے اپنے ساتھ لے جانے کا ارادہ ظاہر نہ کیا‘ اس کے بعدوہاںنبی ؐ کا گزر ہوا‘ آپؐ نے میرا چہرہ دیکھ کر میرے دل کا حال معلوم کرلیا اور فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے کہا: لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپؐ نے فرمایا: میرے ساتھ چلو‘ نبی اکرمؐ ایک گھر میں داخل ہوئے اور مجھے بھی اندر جانے کی اجازت مل گئی‘ میں نے وہاں دودھ کا ایک پیالہ دیکھا‘آپؐ نے گھر والوں سے پوچھا: یہ دودھ تمہارے پاس کہا سے آیا؟ انہوں نے بتایا کہ فلاں گھر والوں نے ہدیہ بھیجا ہے‘ آپؐ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! اہل صفہ کو بلالاؤ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اہل صفہ سب کے مہمان تھے‘ ان کا کوئی گھر نہ تھا اور نہ وہ مالدار تھے‘ نبیؐ کے پاس جب کوئی ہدیہ آتا تو آپ ؐ اس میں سے کچھ لے لیتے اور جوباقی بچتا وہ انحضرات کے پاس بھیج دیتے تھے‘ اگر صدقے کا مال ہوتا تو وہ سارے کے سارا اہل صفہ کو بھیجتے کیونکہ صدقہ آپ ؐ کے لیے حلال نہ تھا‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ؐ کی اس بات سے کہ اہل صفہ کو بلالاؤ میں غمگین ہوگیا‘

مجھے تو یہ امید تھی کہ اس دودھ سے چند گھونٹ مجھے بھی مل جائیں گے اورمیری بھوک کچھ کم ہوجائے گی‘ میں نے خیال کیا کہ میرےبلانے پر جب وہ سارے لوگ آجائیں گے تو میں ان کو دودھ پلاؤں گا‘ خود میرے لیے کچھ نہیں بچے گا لیکن اللہ کے رسولؐ کے فرمان کی تعمیل ضروری تھی چنانچہ میں جا کر اہل صفہ کو بلالایا‘ وہ آئے اور اجازت لے کر بیٹھ گئے‘

پھر نبیؐ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! ان کو دودھ پلاؤ۔ میں نے دودھ کا پیالہ اٹھایا اور ان سب کو پلانا شروع کیا‘ہر آدمی نے خوب سیر ہو کر پیا‘ جب میں ان سب کو پلا کر فارغ ہوا تو وہ پیالہ میں نے نبی ؐ کو پیش کردیااور اس پیالے میں ابھی کچھ دودھ باقی تھا‘ آپ ؐ نے سرمبارک اٹھایا‘ میری طرف دیکھا اور مسکرادیے‘ پھر فرمایا: اے ابوہریرہ!بیٹھ جاؤ اور یہ دودھ کا پیالہ پیو‘

میں بیٹھ گیا اور میں نے وہ دودھ پیا‘ آپ ؐ نے دوبارہ فرمایا کہ پیو‘ میں نے پھر پیا‘ آپؐ نے باربار فرمایا کہ پیو‘ میں ہربار پیتا رہا‘ آخر میں نے کہہ دیا یارسول اللہ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپؐ کو حق دے کر بھیجا ہے کہ میں اب اور نہیں پی سکتا پھر آپؐ نے فرمایا: اچھا، لاؤیہ پیالہ مجھے دے دو‘میں نے وہ پیالہ آپؐ کو دے دیا‘ آپؐ نے وہ بچا ہوا دودھ نوش فرمایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…