منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

دنیا بھول جائے گی

datetime 14  جولائی  2017 |

وزیراعظم راجیو گاندھی نہرو خاندان کی تیسری نسل تھے‘ یہ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس کے سربراہ اور بھارت کے وزیراعظم بنے‘ بہرامنام راجیو گاندھی کے خصوصی مشیر تھے‘ راجیو گاندھی نے 1987ءمیں راجستھان کی سرحد پر فوج تعینات کر دی‘ بھارتی فوج جنگ کےلئے تیار کھڑی تھی‘ وزیراعظم کے اشارے کی دیر تھی اور بھارتی فوج پاکستان پر حملہ کر دیتی‘

ان دنوں پاکستان کی کرکٹ ٹیم انڈیا کے دورے پر تھی‘ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جے پور میں ٹیسٹ جاری تھا‘ پاکستان اور بھارت کےدرمیان خوفناک ٹینشن تھی‘ جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی تھی لیکن پھر اچانک ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘ جنرل ضیاءالحق اپنے صدارتی جہاز میں سوار ہوئے اور بھارت کی طرف سے دعوت کے بغیر دہلی روانہ ہو گئے‘ جنرل صاحب کرکٹ میچ دیکھنے انڈیا گئے‘ جنرل ضیاءکی اس غیر سفارتی حرکت نے بھارت میں سنسنی پھیلا دی‘ راجیو گاندھی پاکستانی صدر سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن کابینہ اور اپوزیشن نے انہیں دہلی ائیرپورٹ جانے اور جنرل ضیاءالحق کا استقبال کرنے پر مجبور کر دیا‘ اس کے بعد کیا ہوا‘ یہ آپ بہرامنام کی زبانی ملاحظہ کیجئے۔ ”کابینہ اور اپوزیشن لیڈروں نے راجیو گاندھی کو سمجھایا‘ آپ اگر پاکستانی صدر کے استقبال کےلئے ائیرپورٹ نہیں جائیں گے تو عالمی سطح پر بھارت کی بہت بے عزتی ہو گی چنانچہ راجیو گاندھی ہمارے اصرار پر نیو دہلی ائیرپورٹ پہنچ گئے‘پاکستانی صدر طیارے سے اترے‘ راجیو نے جنرل ضیاءسے ہاتھ ملایا لیکن اس نے جنرل ضیاءالحق کے چہرے کی طرف نہیں دیکھا‘ راجیو نے ہاتھ ملاتے ہوئے مجھے حکم دیا‘ بہرامنام جنرل صاحب میچ دیکھنے آئے ہیں‘

انہیں فوراً روانہ ہو جانا چاہیے‘ آپ ان کے ساتھ جاﺅ اور ان کا خیال رکھنا‘یہ جنرل ضیاءالحق کی سیدھی سادی بے عزتی تھی لیکن میں جنرل ضیاءکا رد عمل دیکھ کر حیران رہ گیا‘ وہ نہ جانے کس مٹی کے بنے ہوئے تھے‘ وہ اس بے عزتی کے باوجود مسکراتے رہے‘ جنرل ضیاءالحق جے پور کےلئے روانہ ہونے لگے تو وہ بھارتی وزیراعظم کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور نہایت ہی ٹھنڈے لہجے میں بولے‘ مسٹر راجیو !آپ پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں‘ آپ ضرور کریں

لیکن آپ ایک بات یاد رکھئے گا‘ اس حملے کے بعد دنیا ہلاکو خان اور چنگیز خان کو بھول جائے گی‘ یہ صرف راجیو گاندھی اور ضیاءالحق کو یاد رکھے گی کیونکہ یہ روایتی جنگ نہیں ہوگی‘یہ نیو کلیئر وار ہو گی اور جنگ میں ہو سکتا ہے پورا پاکستان تباہ ہو جائے مگر اس کے باوجود دنیا میں مسلمان رہیں گے لیکن آپ یہ یاد رکھنا اس جنگ کے بعد دنیا میں کوئی ہندو نہیں بچے گا“۔

بہرامنام کے بقول ”یہ فقرے بولتے وقت ضیاءالحق کی آواز اور آنکھوں میں اتنی سختی اور اتنا عزم تھا کہ وہ مجھے اس وقت دنیا کے خطرناک ترین شخص دکھائی دیئے‘ راجیو گاندھی کی پیشانی پر پسینہ آ گیا جبکہ میری ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی پھیل گئی‘ جنرل ضیاءالحق نے یہ فقرے بڑی ہی سنجیدگی سے کہے‘ وہ اس کے بعد مسکرائے اور مجھے اور راجیو گاندھی کو چھوڑ کر وہاں موجود تمام لوگوں کے ساتھ بڑے تپاک سے ہاتھ ملایا‘

وہ بھارتی وزیراعظم کو جوہری جنگ کی دھمکی دینے کے باوجود بہت خوش اور ہلکے پھلکے موڈ میں دکھائی دے رہے تھے‘ میں ان کے اعصاب اور اداکاری پر حیران ر ہ گیا“۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…