منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

رئیس زادی

datetime 13  جولائی  2017 |

شیخ سعدی نے اپنی مشہور و معروف نثر مجلس پنجگانہ میں یہ روایت بیان کی ہے کہ حضرت سہلؒ طبیب تھے۔ان کو الہام کیا گیا کہ تم خراسان جا ؤ وہاں کے ایک رئیس کی بیٹی جنون میں مبتلا ہے۔اس کا علاج کرو ۔حضرت سہلؒ یہ اہلام ہوتے ہی خراسان کے لئے چل پڑے۔لوگوں سے اس رئیس کا پتہ دریافت کیا تو انہوں نے ایک عالیشان محل کی طرف اشارہ کیا۔حضرت سہل محل کی طرف گئے تو دیکھا کہ وسیع و عریض قصر ہے

جس کے سامنے ایک دلکش باغ ہے اور اس میں کچھ آدمی گشت میں مصروف ہیں ۔حضرت سہل نےمحل کی دیوار پر نظر ڈالی تو بیسیوں کٹے ہوئے سر نظر آئے ۔واپس آکر ان لوگوں سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے انہوں نے کہا کہ تجھ سے پہلے کئی طبیب آئے جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اس لڑکی کا علاج کریں گے۔رئیس نے اس شرط پر ان کو اپنی بیٹی کا علاج کرنے کیاجازت دی کہ اگر علاج میں کامیاب نہ ہوئے تو ان کا سر قلم کردیا جائے گا۔چناچہ یہ کٹے ہوئے سر انہیں طبیبوں کے ہیں جو اپنے تمام نسخے آزمانے کے باجود علاج میں ناکام رہے۔وہ لوگ حضرت سہلؒ کو قصر کے اندر لے گئے اور رئیس سے ان کا تعارف کرایا ۔رئیس اس وقت چند آدمیوں کے ساتھ گفتگو کر رہا تھا۔اس نے حضرت سہل کو اشارہ کیا کہ بیٹھ جائیں اور جب وہ آدمی چلے گئے تو رئیس حضرت سہلؒ سے یوں مخاطب ہوا۔رئیس :یہاں آنے سے تمہاری کیا غرض ہے؟حضرت سہلؒ :میں نے سنا ہے کہ تمہاری ایک لڑکی ہے جو جنون کے عارضہ میں مبتلا ہے ۔میں اس کے علاج کے لئے آیا ہوں ۔رئیس :پہلے میرے محل کی دیوار کے اندر نگاہ ڈالو۔حضرت سہلؒ :میں نے سب کچھ دیکھ لیا ہے۔رئیس ان کا جواب سن کر بہت حیرا ن ہوا۔چناچہ اس نے زنان خانے میں پیغام بھیجا کہ شہزادی کو تیار کریں۔

ایک طبیب اسے دیکھنے آیا ہے ۔رئیس نے حضرت کو اپنے ساتھ لیا اور حرم سرا میں داخل ہوا۔جب دونوں لڑکی کے کمرے کے قریب پہنچے تو لڑکی نے کنیز کو آواز دی۔’’میرا نقاب لاؤ تاکہ میں پردہ کرلوں‘‘۔رئیس نے پوچھا اس سے پہلے جو بھی طبیب آئے تم نے پردہ نہیں کیا پھر اس سے کیوں کر رہی ہو؟لڑکی نے جواب دیا:(وہ مرد نہیں تھے ۔مرد یہ ہے جو اب آیا ہے)۔حضرت سہلؒ لڑکی کے قریب گئے اورا لسلام علیکم کہا۔

رئیس زادی:’’علیکم السلام اے پسر خاص ‘‘ حضرت سہل ؒ :تم نے کیسے سمجھا کہ میں پسر خاص ہوں۔ رئیس زادی :جس نے تم کو یہاں بھیجا اس نے مجھ کو بھی متنبہ کردیا ہے کہ تمہیں اللہ نے ایسی نعمت سے نوازا ہے جس سے روح کو تسکین ملتی ہے۔اسی وجہ سے میں خجالت محسوس کر رہی ہوں۔ حضرت سہل ؒ سمجھ گئے کہ لڑکی کو جنون نہیں بلکہ کچھ اور شئے ہے۔

انہوں نے قرآن حکیم کی ایک آیت پڑھی کہ شاید اس میں علاج ہو اور لڑکی کو سکون میسر ہوجائے۔رئیس زادی نے جونہی یہ آیت سنی غش کھا کر گر پڑی۔تھوڑی دیر بعد جب ہوش میں آئی تو حضرت سہلؒ نے اس سے مخاطب ہوکر کہا۔آکہ تجھے سرزمین اسلام میں لے جاؤں۔ رئیس زادی:سرزمین اسلام میں کیا شے ہے جو یہاں نہیں ہے؟حضرت سہلؒ :ارض اسلام میں کعبہ معظم ہے۔ رئیس زادی :’’نادان اگر تو کعبہ کو دیکھے تو اسے پہچان لے گا؟‘‘

حضرت سہلؒ :ہاںرئیس زادی:میرے سر کے اوپر نگاہ کرو۔حضرت سہلؒ نے اوپر نظر اٹھائی تو ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ان کی نظر کے سامنے کعبتہ اللہ موجود تھا جو لڑکی کے سر کے گر د طواف کرتامعلوم ہوتا تھا۔حضرت سہلؒ یہ نظارہ دیکھ کر ششدہ رہ گئے اور پھر بے ہوش ہوکر گر پڑےتھوڑی دیر بعدہوش میں آئے تو رئیس زادی سے پوچھا ۔ تو نے یہ مرتبہ کس طرح حاصل کیا ؟

رئیس زادی:جو شخص اپنے پاؤں کے ساتھ کعبہ جاتا ہے وہ کعبہ کا طواف کرتا ہے اورجو اپنے دل کے ساتھ کعبہ جاتا ہے کعبہ اس کا طواف کرتا ہے۔تجھے معلوم ہونا چاہئے ۔تو ابھی خدا سے ایک قدم دور ہے اگر تمہاری خواہش ہو تو میں تمہارے لئے اس راز کو فاش کر دیتی ہوں۔حضرت سہلؒ :میری جان تم پر قربان جلدی کہو ورنہ میں دیوانہ ہوجاؤں گا ۔

رئیس زادی:جس نے اپنے نفس کو جان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیارئیس زادی کا جواب سن کر حضرت سہل تستری کے سارے حجابات دور ہوگئے۔ان کے دل سے اپنی ولادیت اور بڑائی کاخیال یکسر جاتا رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…