پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

بیت اللہ میں نصب حجر اسود کو محفوظ بنانے کیلئے کیا کیاجاتاہے؟ایمان افروز تفصیلات جاری

datetime 3  جولائی  2017 |

مکہ مکرمہ(این این آئی)حجراسود کو بیت اللہ کا اہم ترین حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ حجر اسود کی تاریخ کے بارے میں کئی آراء پائی جاتی ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت حجر اسود کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن حفاظتی انتظامات کرتی ہے تاکہ زائرین کی جانب سے اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچ پائے۔عرب ٹی وی کی جانب سے حجر اسود کی حفاظت کے حوالے سے ایک فوٹیج جاری کی گئی۔

اس فوٹج کے ساتھ ساتھ حجر اسود کے بارے میں دقیق تفاصیل بھی بیان کی گئی ہیں،حجر اسود کو دراصل آٹھ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کا مجموعہ ہے جن میں بڑا ٹکڑا 2 اور چھوٹا ٹکڑا ایک سینٹی میٹر ہے۔ ان تمام ٹکڑوں کو درختوں سے حاصل ہونے والے للبان العربی الشحری یا الحوجری بروزہ مادے جسے خوشبو داری دھونی کے سے جوڑا گیا ہے۔باب کعبہ کے مستری کے پوتے فیصل بن محمد بن محمود بدر کو حجر اسود کی صفائی اور اس کے حفاظتی انتظامات کرتے دیکھا گیا۔ فیصل نے یہ کام اپنے آباؤ اجداد سے سیکھا ہے جو نسل درنسل ان تک منتقل ہوا ہے۔ ان کے آباؤ اجداد خانہ کعبہ کی مرمت کی مسلسل سعادت حاصل کرنے والے خاندانوں میں شامل ہیں۔حجراسود کی حفاظت کے لیے اس کی مسلسل دیکھ بحال کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسلسل چھونے، گرمی اور دیگر عوامل کی وجہ سے حجر اسود متاثر ہوتا ہے۔ سعودی حکام ایک جانب تو حجر اسود کو محفوظ بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات کررہے ہیں دوسری طرف حجاج و معتمرین کو اس کی حفاظت کے لیے آگاہ بھی کیا جاتا ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ حجر اسود کا کوئی ٹکڑا توڑنے سے گریز کیا جائے۔ ماضی میں غلاف کعبہ کی طرح حجر اسود کے ٹکڑے بھی توڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ۔فیصل البدر کا کہنا تھا کہ تاریخی روایات کے مطابق حجر اسود یاقوت کا وہ پتھر ہے جسے جنت سے اتارا گیا اور اسے جبل ابو قبیس میں رکھا گیا۔

اس پتھر کو حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے کعبے کی بنیادیں اٹھاتے وقت خانہ کعبہ کی زینت بنایا اور اس کے بعد یہ کعبے کا ایک جزو قرار پایا۔حجر اسود کے چھوٹے چھوٹے سات ٹکڑے ہیں۔ شاید مرور زمانہ کے ساتھ یہ ایک پتھر نہیں رہا بلکہ ٹوٹ چکا ہے۔ اس کے سب سے چھوٹے ٹکڑے کا سائز ایک جب کہ بڑے ٹکڑوں کا سائز دوسینٹی میٹر ہے۔ حجر اسود کو بچانے کے لیے اس پر سونے اور چاندی کی قلعی بھی کی جاتی ہے۔

فیصل البدر کا کہنا تھا کہ حجر اسود کو خانہ کعبہ کے اندر سے نہیں دکھایا جاتا بلکہ خانہ کعبہ کا ایک رکن ہوتا ہے۔حجر اسود کو محفوظ بنانے کے لیے دو سال میں ایک بار ایک یا دو گھنٹے کے لیے حفاظتی مراحل سے گذارا جاتا ہے۔ جہاں کہیں اس کے اندر کسی جگہ کی مرمت کی ضرور ہوتی ہے سے مرمت کی اجاتا ہے۔ تاہم اس کی دیکھ بحال معمول کے مطابق جاری رہتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…