پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

خانہ کعبہ کی خدمت کا مقدس فریضہ سب سے پہلے کس نے سر انجام دیا؟خانہ خدا کی خدمت گاری رسول اللہﷺ کے خاندان تک کیسے پہنچی۔۔ایمان افروز تحریر

datetime 29  جون‬‮  2017 |

خانہ کعبہ کی خدمت ایک اہم فریضہ ہے جو خوش قسمت لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔خانہ کعبہ کی خدمت کا فریضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر سنہ 8 ہجری میں ’’بنو شیبہ‘‘ سے تعلق رکھنے والے عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کو چابی دے کران کے سپرد کیا، اس کے ساتھ ہی اللہ کے نبی نے اعلان فرمایا کہ ’’یہ اب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بنو شیبہ کے پاس ہی رہے گی

اور اس کو ظالم شخص کے سوا کوئی نہ چھینے گا۔‘‘ اس دن سے لے کر آج تک ’’بنو شیبہ‘‘ کے فرزندان ہی کو کعبہ کا ’’کلید بردار‘‘ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔روایات کے مطابق تاریخی طور پر خانہ کعبہ کی خدمت کا آغاز حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے زمانے سے شروع ہوا جب انہوں نے بیت اللہ کی بنیادیں قائم کیں۔ ان کے امور میں بیت اللہ کو کھولنا، بند کرنا، صاف کرنا، غسل دینا، غلاف چڑھانا، اور غلاف پھٹ جانے یا ادھڑ جانے کی صورت میں اس کو پھر سے درست کرنا اور بیت اللہ کی نگرانی کرنا شامل تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو کعبے کی خدمت گاری کے علاوہ بیت اللہ کی زیارت کرنے والوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری بھی سونپی ہوئی تھی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی وفات کے بعد ’’جرہم قبیلے‘‘ نے ان کی اولاد سے یہ ذمہ داری چھین لی۔ کچھ عرصے بعد ’’خزاعہ قبیلے‘‘ نے ’’جرہم قبیلے‘‘ سے کعبے کی خدمت گاری لے لی، یہاں تک کہ رسول اللہ کے جد امجد قصی بن کلاب نے اسے واپس لے لیا کیونکہ وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔بعد ازاں یہ ذمہ داری قصی بن کلاب کے بڑے بیٹے عبدالدار کے حوالے کردی اور پھر یہ ذمہ داری موروثی طور پر چلتے ہوئے عثمان بن طلحہ تک پہنچ گئی جو رسول اللہ ﷺ کے ہم عصر تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…