پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

عشقِ رسول اکرمؐ

datetime 12  جون‬‮  2017 |

آل بلال میں رباح نے حضرت عمرؒ کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا کہ انہوں نے آپ کو ایک کھیت فروخت کیا تھا۔ پھر اس میں کانیں نکل آئیں۔ مقدمہ میں کہا گیا کہ ہم نے آپ کو کھیت فروخت کیا تھا کانیں فروخت نہیں کی تھیں اور انہوں نے آپ کو رسول اللہؐ کی ایک تحریر دکھائی۔حضرت عمرؒ نے لپک کر وہ تحریر چوم لی اور اسے اپنی آنکھوں سے لگایا اور اپنے منتظم سے فرمایا، اس کی آمدنی اور خرچ کا اندازہ لگاؤ۔ پھر آپ نے خرچ وضع کرکے باقی رقم انہیں دے دی۔

اُمراء حضرت عمرؒ کے دروازے پر
ایک دفعہ امراء حضرت عمرؒ کے دروازے پر جمع ہو گئے، آپ اندر تشریف فرما تھے۔ انہوں نے آپ کے صاحبزادے عبدالملک سے کہا کہ یا تو ہم لوگوں کو اندر جانے کی اجازت دلواؤ یا پھر اپنے ابا کو ہمارا یہ پیغام پہنچا دو کہ ’’ان سے پہلے جو خلفاء تھے وہ ہمارے اوپر انعام و عطایا نچھاور کیا کرتے تھے، ہمارے مراتب و درجات کا لحاظ رکھتے تھے، لیکن تمہارے ابا نے ہمیں ہر قسم کی مراعات سے محروم کر دیا۔‘‘ عبدالملک نے اندر جا کر سیدنا عمرؒ کو لوگوں کا یہ پیغام سنا دیا۔ آپ نے فرمایا: ’’ان لوگوں کو جا کر کہہ دو کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں تو قیامت کے عذاب سے مجھے سخت خوف آتا ہے، لہٰذا میں آپ لوگوں کو کوئی بھی ناجائز مراعات نہیں دے سکتا۔
تو نکہتِ گل بن کے سبک سیر گزر جا
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے عدل و انصاف کی بارش اپنے پرائے سب پر یکساں برستی تھی۔ جب آپ کے گھر والوں کو بھی مشقت کا سامنا کرنا پڑا تو انہیں بھی آپؒ سے کچھ شکایت ہوئی۔ چنانچہ عنبسہ بن سعد نے آپ سے شکایت کی کہ امیرالمومنین! ہم لوگوں کا آپ پر حق قرابت ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ ’’میرے ذاتی مال میں تم لوگوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے، یعنی تمہاری ضرورت اس سے پوری نہیں ہو سکتی اور بیت المال کے مال میں تم لوگوں کا اس سے زیادہ حق نہیں ہیخ جتنا ’’برک غماد‘‘ ایک جگہ کا نام ہے، کے آخری حدودکے رہنے والے کا ہے، خدا کی قسم! اگر ساری دنیا تمہاری ہم نوا ہو جائے تو ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…