پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

’چیروکی‘

datetime 7  جون‬‮  2017 |

ریڈ انڈینز کو کون نہیں جانتا، یہ وہ جنگلی فطرت کے لوگ ہیں جو ابھی بھی اس دنیا کے بہت سے حصوں میں پائے جاتے ہیں۔ ریڈ اندین قبیلوں کی صورت زندگی بسر کرتے ہیں۔ان لوگوں میں ایک رسم کو ’چیروکی‘ کہتے ہیں۔ اس رسم میں جب کوئی بھی لڑکا ستراں سے اٹھاراں سال کا ہو جاتا ہے تو اس کو بہادری کا ایک امتحان پاس کرنا پڑتا ہے ۔ اگر وہ اس امتحان میں پاس ہو جائے تو اس کو مرد کا بچہ سمجھا جاتا ہے۔

اگر وہ اس امتحان میں اپنی دلیری کا مظاہرہ نہ کر سکے تو اس کی چاہے جو بھی عمر ہو جائے اس کو مرد نہیں سمجھا جاتا۔ پورا قبیلہ اسے ایک بزدل کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ایک لڑکا بالغ ہوا تو اس کے باپ نے اس کے ساتھ ’چیروکی‘ کی رسم نبھائی۔ اس کو جنگل میں لے کر گیا اور اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور اسے بتایا کہ وہ اسے اس گھنے خطرناک جنگل میںآنکھوں پر اس پٹی کے ساتھ اکیلا چھوڑ کر جا رہا ہے ۔’ چیروکی ‘کی رسم میں جو بھی لڑکا اپنی ایک پوری رات آنکھوں پر پٹی باندھ کر جنگل میں تنہا شب بسر کر لے، اسے ہی ایسا مرد سمجھا جاتا ہے جس میں مردانگی ہو۔ اس کا باپ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس کو رات کو جنگل میں تنہاچھوڑ گیا۔ پوری رات اس پر کیا بیتی وہ بیان کے قابل نہیں ہے۔ اس نے بند آنکھوں کے ساتھ جنگل کی ہر آہٹ سنی اور ڈر لگنے کے باوجود نہ تو اس نے اپنی آنکھوں سے پٹی کھولی اور نہ ہی وہ واپس قبیلے کے رہائشی علاقے کی طرف بھاگا۔ اس نے ساری رات جانوروں کی آوازیں برداشت کیں۔ جب صبح صادق، روشنی کی پہلی کرن اس کے چہرے پر پڑی تو اس نے جلدی سے پٹی کھول دی۔ ’چیروکی‘ کی رسم میں سورج کی کرنیں جب آنکھوں کو پٹی سمیت روشن کر دیتی ہیں تو ہی کوئی بھی ریڈ انڈین لڑکا اپنی آنکھوں پر بندھی پٹی کھول سکتا ہے۔

اس نے پٹی کھولی اور ڈر کر اپنے ارد گرد دیکھا کہ کہیں کوئی جنگلی جانور تو اس کی تاک میں نہیں بیٹھا،اسی دوران اس کی نظر اپنے پیچھے بیٹھے، اپنے باپ پر پڑی اور وہ چونک گیا۔ رسم یہی ہوتی ہے کہ لڑکے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا باپ ساری رات اس کی حفاظت کرتا ہے لیکن جو کوئی بھی اپنی پٹی رات میں ڈر کر اتار دے اس کا باپ قبیلے کو سچ بتا دیتا ہے اور جب تک کوئی اس رسم کا امتحان پورا نہ کر لے،

اس کو بزدل گردانا جاتا ہے۔ اگر کوئی غور کرے تو’چیروکی ‘کی یہ انوکھی رسم ایک بہت اہم سبق سکھاتی ہے۔ زندگی میں اکثر اوقات ہم بالکل تنہا رہ جاتے ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ سب غلط ہو رہا ہے اور آگے کوئی روشنی نظر نہیں آتی۔ ایسے میں یاد رکھو کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ کوئی بھی انسان کبھی بھی تنہا نہیں ہوتا کیونکہ اس کے ساتھ وہ ذات ہر دم ہر گھڑی اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، جو اس سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتی ہے۔

اس کو عام الفاظ میں توکل کہتے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان کبھی لاوارث نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ سب کے لیے۔۔۔الولی۔۔الوالی ۔۔۔الوارث۔۔۔رہے گا۔ یہ اللہ کے ایسے تین نام ہیں جن کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان اس کو اپنا ولی اور وارث کہہ کر پکارتا ہے کیونکہ حقیقت میں صرف وہی ہم سب کا وارث ہے۔ تمام رشتے ناتے چھن سکتے ہیں لیکن اللہ سے رشتہ ایسے ہے جیسے محا فظ۔ وہ اپنے بندے کی ہر دم حفاظت کرتا ہے۔ ہم اکثر مایوس ہو جاتے ہیں کہ اتنی مشکل اٹھائی اور کسی کو کوئی احساس نہیں تو سچ یہ ہے کہ جس نے ’کن فیکون‘ کرنا ہے، وہ سب دیکھ رہا ہے اور اس کے دیکھنے سے ہی سارا فرق پڑتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…