حضرت عبداللہ بن عمرؓ ایک مرتبہ شاگردوں کے ساتھ مدینہ کے نواح میں نکلے، کھانے کے لئے دستر خوان بچھایا گیا تو ایک چرواہے نے گزرتے ہوئے سلام کیا۔ آپؓ نے کھانے کی دعوت دی تو اس نے کہا کہ میرا روزہ ہے۔ فرمایا اس قدر گرمی میں؟ کہنے لگا تیزی کے ساتھ زندگی کے ان گزرتے دنوں کو اسی طرح قیمتی بنایا جا سکتا ہے۔ آپؓ نے امتحاناً اس سے فرمایا ان بکریوں میں سے ایک ہمیں فروخت کر دو۔
ہم اس کی قیمت ادا کریں گے اور افطار کے لئے گوشت بھی دیں گے۔ چرواہ کہنے لگا یہ بکریاں میری نہیں، آقا کی ہیں، حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا ’’ایک بکری آقا کو نہ ملی تو وہ کیا بگاڑ سکتا ہے(اس کے گم ہونے کا بہانہ کیا جا سکتا ہے) کہنے لگا اللہ کہاں جائے گا؟ ان کے اس جملے سےاْپؓ پر وجد کی سی کیفیت طاری ہو گئی اور بار بار یہ جملہ دہراتے ہیں ’’اللہ کہاں جائے گا، اللہ کہاں جائے گا‘‘۔ مدینہ واپس ہوئے تو غلام چرواہا اور تمام بکریاں خریدیں، غلام کو آزاد کیا اور بکریاں اسے ہبہ کیں۔



















































