سنہ 93 میں سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ گورنری کے عہدے سے معزولی کے بعد اپنے ایک غلام مزاحم کے ساتھ رات کی تاریکی میں مدینہ طیبہ سے دمشق جانے کا ارادہ لے کر نکلے۔ اس وقت اگرچہ پورا مدینہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا لیکن مدینہ اور مکہ کا یہ سابقہ گورنر جس کا سامان تیس اونٹوں پر مدینہ منورہ گیا تھا، اب صرف ایک غلام مزاحم کے ساتھ مدینہ سے نکلا تاکہ اس کے نکلنے کا کسی کو پتہ نہ چلے۔ مدینہ سے نکلتے وقت انہیں دو احادیث نبویؐ یاد آئیں۔ ایک یہ کہ
سرکار دو عالمؐ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ کوئی مدینہ سے نہیں نکلے گا مگر اللہ تعالیٰ اس کے عوض اسے بہترین جگہ دے گا یا اس کے مثل دے گا۔ اور دوسری حدیث یہ ذہن میں آئی کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے کہ وہ میل کچیل اور گندگی نکال باہر کرتا ہے۔ آپ نے نہایت بے چینی کی حالت میں اپنے غلام مزاحم سے فرمایا: مزاحم ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں ہم ان میں سے نہ ہوں جن کو مدینہ نکال باہر کرتا ہے۔‘‘



















































