پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

یہ میرا بیٹا نہیں ہے اور حضر ت علیؒ کی دو راندیشی

datetime 3  جون‬‮  2017 |

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک عجیب و غریب مقدمہ عدالتِ فاروقی میں پیش ہوا ۔ایک انصاری نوجوان لڑکا کہتا تھا کہ جناب! میں فلاں عورت کا بیٹا ہوں،مگر وہ مجھے اپنا بیٹا ماننے سے انکاری ہے۔ سوال ہوا :تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے؟جناب! میں اس کا کیا ثبوت پیش کر سکتا ہوں عورت سے پوچھا گیا: کیا معاملہ ہے؟ اس نے سرے سے انکار کیا کہ میری تو کبھی شادی ہی نہیں ہوئی۔

اِدھر عورت نے چند گواہوں کو بھی امیر المومنین کی خدمت میں پیش کردیا ۔جنہوں نے یہ گواہی دی کہ اس عورت نے کبھی کسی سے شادی ہی نہیں کی،پھر اس کا بچہ کہاں سے پیدا ہو گیا؟!یہ لڑکا جھوٹ بول کر خواہ مخواہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس عورت کا بیٹا ہے،یہ تو سراسر بہتان ہے!! امیر المومنین نے یہ ساری باتیں سننے کے بعد اس نوجوان پر حد جاری کرنے کا حکم دے دیا۔اسی دوران میں حضرتِ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وہاں آگئے اور اس مقدمے کے بارے میں پوچھنے لگے ۔لوگوں نے ساری داستان سُنا دی۔حضرتِ علی رضی اللہ عنہ نے اس مقدمہ سے متعلق سب لوگوں کو بلایا اور مسجدِ نبوی میں بیٹھ گیے۔پھر اس عورت سے پوچھا:کیا یہ نوجوان تیرا بیٹا نہیں ہے؟ عورت نے جواب دیا: ہوں یہ میرا بیٹا ہر گز نہیں ہے۔ حضرتِ علی رضی اللہ عنہ نے نوجوان سے کہا :جوان! تم بھی ویسے ہی انکار کردو کہ یہ عورت تمہاری ماں نہیں ہے،جیسا اس نے تمہیں اپنا بیٹا ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ نوجوان نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ کے چچا کے بیٹے! میں یہ کیسے کہہ سکتا ہوں،جبکہ میں خوب جانتا ہوں کہ یہ میری ماں ہے؟! حضرتِ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اس عورت کو ماں کہنے سے انکار کردو۔ اور میں آج سے تمہارا باپ اور میرے بیٹے حسن و حُسین تمہارے بھائی ہوں گے۔ نوجوان نے عرض کی : ہاں، میں اس عورت کو اپنی ماں ماننے سے انکار کرتا ہوں۔ پھر حضرتِ علی رضی اللہ عنہ نے عورت کے اولیا سے فرمایا:

“کیا اس عورت کے بارے میں میری بات مانی جائے گی؟” اولیا نے عرض کیا : ہاں ہاں کیوں نہیں۔ بلکہ ہمارے سلسلے میں آپ جو بھی حکم دیں گے ہم ماننے کو تیار ہیں۔ ان کی باتیں سننے کے بعد حضرتِ علی رضی اللہ عنہ گویا ہوئے: اے قنبر!( قنبر حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کے غلام کا نام تھا)ان حاضرین کے سامنے تم گواہ رہو گے کہ میں نے اس اجنبی خاتون کی شادی اس نوجوان سے کردی۔

تم جا کر درہموں کی تھیلی لاؤ۔ قنبر گیا اور تھیلی لا کر حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں رکھ دی۔اس میں چار سو اسی درہم تھے۔حضرتِ علی رضی اللہ عنہ نے بطور مہر یہ درہم دیے اور نوجوان سے فرمایا: “اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑو اور اس کے بعد ہمارے پاس اسی صورت میں حاضر ہونا جبکہ تمہارے اوپرعرس(سہاگ رات) کے نشانات ہوں۔”۔

یہ کہہ کر جوں ہی حضرتِ علی رضی اللہ عنہ اٹھے،عورت کہنے لگی :اللہ اللہ،اے ابو الحسن! یہ نوجوان تو میرے حق میں جہنم کا ٹکڑا بن جائے گا۔یہ تو اللہ کی قسم! میرا بیٹا ہے۔ حضرتِ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:یہ کیونکر تمہارا بیٹا ہوسکتا ہے جبکہ تم نے ابھی کچھ ہی لمحے پہلے اسے اپنا بیٹا ماننے سے انکار کیا تھا اورساتھ ہی گواہوں کو بھی پیش کیا تھا؟!۔ عورت کہنے لگی:

دراصل بات یہ ہے کہ اس نوجوان کا باپ حبشی تھا،میرے بھائیوں نے اس کے ساتھ میری شادی کر دی، اس سے مجھے حمل ٹھہر گیا۔کچھ دنوں کے بعد اس کا باپ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے گیا اور شہید ہوگیا۔اس کے بعد جب میرا بچہ پیدا ہوا تو میں نےاسے فلاں قبیلے میں بھیج دیا۔

میرے اس بیٹے نے اسی قبیلے میں پرورش پائی،پھر میں نے اسے اپنا بیٹا ماننے سے انکار کر دیا۔ حضرتِ علی رضی اللہ عنہ نے یہ پوری داستان سن کو فرمایا:میں ابو الحسن ہوں، میں کسی اور کا باپ کیوں کر بن سکتا ہوں؟!پھر آپ نے اس نوجوان کو اس عورت کے ساتھ بھیج دیا اور اس کا نسب اس عورت کے ساتھ ثابت کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…