پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

datetime 23  مئی‬‮  2017 |

حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحبؒ جب تقسیم ہند کے بعد وطن کو خیرباد کہہ کر پاکستان تشریف لائے اور کراچی میں مقیم ہوئے تو اس وقت اس شہر میں دینی تعلیم کا صرف ایک ہی ادارہ تھا یعنی مظہر العلوم کھڈہ، ظاہر ہے کہ وہ تمام اہل علم کو اپنے اندر نہیں سمو سکتا تھا، اس لئے حضرت مفتی ولی حسن صاحبؒ نے اس وقت برنس روڈ پر واقع، میٹرو پولیس ہائی سکول‘‘ میں اسلامیات کے استاد کی حیثیت سے کام شروع کر دیا۔

سکول کی انتظامیہ انگریزوں کی پروردہ اور مغربی ذہنیت کی حامل تھی، اس نے حضرت مفتی صاحبؒ سے داڑھی منڈوانے کا مطالبہ کیا، ظاہر ہے کہ حضرت مفتی صاحب مرحوم اس مطالبہ کو تسلیم کرنے والے نہ تھے لیکن انتظامیہ کا اصرار جاری رہا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ انتظامیہ نے داڑھی نہ منڈوانے کی صورت میں ملازمت سے علیحدہ کردینے کا عزم کر کے مولانا کو آخری فیصلہ سنا دیا۔ حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحبؒ ، صاحبِ عیال تھے، اس زمانہ میں کوئی دوسرا ذریعہ معاش بھی نہ تھا، فکرمند ہو کر اپنے رفیق حضرت مولانا نور احمد صاحب (دارالعلوم کراچی کے ناظم اول) کے پاس آئے اور پریشانی کے عالم میں یہ صورتحال بتائی، واقعہ سن کر حضرت مولانا مرحوم کو سخت تکلیف ہوئی اور بڑی غیرت آئی، پوچھا آپ کا کیا مشاہرہ دیتے ہیں؟ انہوں نے مشاہرہ بتا دیا۔ حضرت مولانا مرحوم نے ان سے فرمایا ’’آپ ہمارے پاس آ جائیں ہم ان سے دوگنا مشاہرہ دیں گے، کل آپ داڑھی میں اہتمام سے کنگھا کر کے تیل لاگا کر جائیں اور استعفیٰ پیش کر دیں‘‘ چنانچہ حضرت مفتی صاحبؒ استعفیٰ دے کر دارالعلوم کراچی آ گئے اور پاکستان میں اپنی خدمت دینیہ کا وقیع انداز میں آغاز فرمایا۔یہ اس پاکستان کے نظام تعلیم کا واقعہ ہے جس کے وجود کی وجہ جواز ہی ایک خالص اسلامی ریاست کا قیام تھا اور اس کے لئے برصغیر کے مسلمانوں نے لازوال قربانیاں دیں، یہاں حکومتوں کے انقلابات نے اس کی تاسیس کے بعد اہداف و مقاصد کا جو حشر کیا وہ ایک دردناک داستان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…