بدھ‬‮ ، 07 جنوری‬‮ 2026 

مہربان کیسے کیسے؟

datetime 23  مئی‬‮  2017 |

مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ حضرت مدنی کے بارے میں فرماتے ہیں’’میں نہ مولانا کا شاگرد ہوں، نہ مرید، نہ پیر بھائی، ان کے مجاہدانہ کارناموں کی وجہ سے مجھے ان سے محبت و عقیدت ہو گئی تھی، میں ایک مرتبہ لکھنؤ سے گاڑی پر سوار ہوا، میری طبیعت خراب تھی، چادر اوڑھ کرسیٹ پر لیٹ گیا تھا، بخار تھا، اعضاء شکنی تھی، اس لئے کراہتا بھی تھا، مجھے نہیں معلوم کہ کون سا سٹیشن آیا اور کون مسافر سوار ہوا،

بریلی کے سٹیشن کے بعد ایک شخص نے میرے پاؤں اور کمر دبانا شروع کی، مجھے بہت راحت ہوئی، چپکا لیٹا رہا اور وہ دباتا رہا، مجھے پیاس لگی، پانی مانگا تو اس نے اپنی صراحی سے گلاس پانی کا دیا اور کہا ’’لیجئے‘‘ میں نے اٹھ کر دیکھا تو مولانا مدنیؒ تھے، مجھے ندامت ہوئی اور معذرت کی لیکن انہوں نے اس درجہ مجبور کیا کہ پھر لیٹ گیا اور وہ رامپور تک برابر مجھ کو دباتے رہے، پھر میں اٹھ کر بیٹھ گیا‘‘۔



کالم



سائرس یا ذوالقرنین


میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…