مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ حضرت مدنی کے بارے میں فرماتے ہیں’’میں نہ مولانا کا شاگرد ہوں، نہ مرید، نہ پیر بھائی، ان کے مجاہدانہ کارناموں کی وجہ سے مجھے ان سے محبت و عقیدت ہو گئی تھی، میں ایک مرتبہ لکھنؤ سے گاڑی پر سوار ہوا، میری طبیعت خراب تھی، چادر اوڑھ کرسیٹ پر لیٹ گیا تھا، بخار تھا، اعضاء شکنی تھی، اس لئے کراہتا بھی تھا، مجھے نہیں معلوم کہ کون سا سٹیشن آیا اور کون مسافر سوار ہوا،
بریلی کے سٹیشن کے بعد ایک شخص نے میرے پاؤں اور کمر دبانا شروع کی، مجھے بہت راحت ہوئی، چپکا لیٹا رہا اور وہ دباتا رہا، مجھے پیاس لگی، پانی مانگا تو اس نے اپنی صراحی سے گلاس پانی کا دیا اور کہا ’’لیجئے‘‘ میں نے اٹھ کر دیکھا تو مولانا مدنیؒ تھے، مجھے ندامت ہوئی اور معذرت کی لیکن انہوں نے اس درجہ مجبور کیا کہ پھر لیٹ گیا اور وہ رامپور تک برابر مجھ کو دباتے رہے، پھر میں اٹھ کر بیٹھ گیا‘‘۔