بدھ‬‮ ، 07 جنوری‬‮ 2026 

فیشن کی شناخت

datetime 23  مئی‬‮  2017 |

مولانا عاشق الٰہی صاحب بلند شہری تحریر فرماتے ہیں:’’آج کل معاشرہ میں یہ چیز زیادہ مقبول ہو رہی ہے کہ لڑکوں کو لڑکیوں کا لباس اور لڑکیوں کو لڑکوں کا لباس پہناتے ہیں اور نوجوان مرد عورت اس سیلاب کے بہاؤ میں بہہ رہے ہیں، یہ طرز بھی یورپ اور امریکہ کے تابکاروں سے شروع ہوا ہے، ان کے نزدیک یہ فیشن اور فخر کی چیز ہے۔ ایک جگہ کا واقعہ ہے کہ کسی جگہ دعوت تھی، مرد اور عورت ایک ہی جگہ موجود تھے، ایک نو عمر

کو دیکھا گیا کہ رواج کے مطابق میز پر کھانا لگا رہا ہے، کسی کی زبان سے یہ نکل گیا کہ ’’لڑکا بڑا ہونہار ہے، سلیقہ مندی سے کام کر رہا ہے‘‘۔ اس پر پیچھے سے آواز آئی کہ ’’میاں کیا فرما رہے ہیں، یہ لڑکا نہیں، میری لڑکی ہے‘‘ ان صاحب نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور ایک نظر ڈال کر کہا ’’معاف کیجئے، مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ اس کی والدہ ہیں‘‘ اس نے فوراً جواب دیا کہ میاں! آپ صحیح دیکھا کیجئے، میں والدہ نہیں، اس کا والد ہوں‘‘۔



کالم



سائرس یا ذوالقرنین


میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…