اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

وہ نگینہ مجھے پسند تھا

datetime 18  مئی‬‮  2017 |

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کی انگشتری میں ایک ایسا نگینہ جڑا ہوا تھا، جس کی صحیح قیمت کا اندازہ جوہری بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اتفاق سے ایسا ہوا کہ ایک دفعہ سخت قحط پڑ گیا۔ لوگ بھوکوں مرنے لگے۔ حضرت عمر رحمتہ اللہ علیہ کو ان حالات کا علم ہوا تو لوگوں کی امداد کے لیے اپنی انگشتری کا وہ قیمتی نگینہ بھی فروخت کر دیا اور جو قیمت ملی اس سے اناج وغیرہ خرید کر تقسیم کردیا۔

جب اس بات کا علم آپ کے خیر خواہوں کو ہوا تو ان میں سے ایک نے آپ سے کہا ’’یہ آپ نے کیا کیا؟ ایسا بیش قیمت نگینہ بیچ دیا؟‘‘حضرت عمر رحمتہ اللہ علیہ نے جواب میں فرمایا۔’’وہ نگینہ مجھے پسند تھا، لیکن مجھے یہ بات گوارا نہ تھی کہ لوگ بھوک سے تڑپ رہے ہوں اور میں اپنے آرام و زینت کے سامان کو عزیز رکھوں۔‘‘ یہ فرمایا اور آپ کی آنکھوں سے ہمدردی کی وجہ سے آنسو جاری ہو گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…