اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

طاؤس و رباب آخر

datetime 18  مئی‬‮  2017 |

خلافت عباسی، خلافت امویہ کی پوری پوری جانشین تھی، وہی دنیاداری کی رورح، وہی شخصی و موروثی سلطنت کا نظام و آئین اور وہی اس کی خرابیاں اور برے نتائج، وہی بیت المامل میں آزادانہ تصرف، وہی عیش و عشرت کی گرم بازاری، فرق اتنا تھا کہ امویوں کی سلطنت میں اور ان کے زمانہ کی سوسائٹی میں عربی روح کارفرما تھی، اس کی خرابیاں اور بے اعتدالیاں بھی اسی نوع کی تھیں،

عباسی سلطنت کے جسم میں عجمی روح داخل ہو گئی تھی، وہ عجمی قوموں اور تہذیب کے امراض و عیوب اپنے ساتھ لائی تھی، سلطنت کا رقبہ اتنا وسیع ہو گیا تھا کہ ہارون رشید نے ایک مرتبہ ابر کے ایک ٹکڑے کو دیکھ کر بڑے اطمینان سے کہا ’’جہاں تیرے جی میں آئے جا کر برس جا، تیری پیداوار کا خراج بہرحال میرے ہی پاس آئے گا‘‘۔دولت کی بہتات، مال کی بے وقعتی اور اس وقت کے تمدن و عیش کا اندازہ کرنے کے لئے تاریخ میں مامون کی شادی کا حال پڑھ لینا کافی ہے۔ مورخ لکھتا ہے ’’مامون مع خاندان شاہی دارکان دولت و کل فوج تمام افسران ملکی و خدام حسن بن سبھل (وزیراظعم جس کی لڑکی سے ماموں کی شادی ہو رہی تھی) کا مہمان ہوا، اور برابر انیس دنتک اس عظیم الشان بارات کی ایسی فیاضانہ حوصلہ سے مہمانداری کی گئی کہ ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی نے بھی چند روز کے لئے امیرانہ زندگی بسر کرلی، خاندان ہاشم و افسران فوج اور تمام عہدیداران سلطنت پر مشک و عنبر کی ہزاروں گولیاں نثار کی گئیں، جن پر کاغذ لپٹے ہوئے تھے اور ہر کاغذ پر نقد، غلام، لونڈی، املاک، خلعت اسپ حاضر، جاگیر وغیرہ کی ایک خاص تعداد لکھی ہوئی تھی، نثار کی عام لوٹ میں یہ فیاضانہ حکم تھا کہ جس کے حصہ میں جو گولی آئے اس میں جو کچھ لکھا ہو اسی وقت کیل المخزن سے دلا دیا جائے،

عام آدمیوں پر مشک و عنبر کی گولیاں اور درہم و دینار نثار کئے گئے، مامون کے لئے ایک نہایت مکلف فرش بچھایا گیا جو سونے کی تاروں سے بنایا گیا تھا اور گوہر یاقوت سے مرصع تھا، مامون جب اس پر جلوہ فرما ہوا تو بیش قیمت موتی، اس کے قدم پر نثار کئے گئے جو زرین فرش پر بکھر کر نہایت دل آویز سماں دکھاتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…