اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

حجرہ نبوی کے اندر کیا دیکھا؟

datetime 17  مئی‬‮  2017 |

سعودی عرب میں ایک سابق حکومتی عہدیدار نے شاہ فیصل بن عبدالعزیز کے دور میں خود کے حجرہِ نبوی میں داخل ہونے کا قصہ بیان کیا ہے۔ سعودی شہری شیخ عائض بن عمر الرویس نے انکشاف کیا ہے کہ مملکت کے سابق فرماں روا شاہ فیصل نے ایک مرتبہ حجرہ نبوی کے اندر کی زیارت کی تو انہیں وہاں لوہے کے بنے ہوئے صندوق نظر آئے جن کے بارے میں علم نہیں تھا کہ ان کے اندر کیا ہے۔

”شاہ فیصل نے اس موقع پر صندوقوں کے اندر موجود اشیاء کے بارے میں پوچھا تو انہیں بتایا گیا کہ یہ تُرکوں کے زمانے سے یہاں موجود ہیں اور ان کے اندر موجود اشیاء کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ اس پر شاہ فیصل نے حکم دیا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ان دو صندوقوں سمیت حجرہ نبوی کے اندر موجود اشیاء کا جائزہ لے اور ان اشیاء کی فہرست تیار کرے۔ کمیٹی میں وزارت اوقاف ، وزارت مالیات اور نگرانی کے محکمہ کے اہل کاروں کو شامل کیا گیا“۔شیخ الرویس نے بتایا کہ ”میں کمیٹی میں وزارت مالیات کی نمائندگی کر رہا تھا۔ طے یہ ہوا کہ ہم عشاء کی نماز کے بعد حجرہ نبوی کا دورہ کریں گے جب کچھ دیر بعد مسجد نبوی کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور حجرے کے پہرے دار آ جاتے ہیں۔ ہم جواہرات اور آثاریات کے ماہرین کی موجودگی میں تمام اشیاء کی فہرست تیار کریں گے۔ پہلے صندوق کا معائنہ کیا گیا تو اس میں سونے کی چھوٹی اینٹیں اور زیورات پائے گئے۔ دوسرے صندوق میں چاندی کی زنجیریں ملیں جو حرمِ مکی میں اور خانہ کعبہ پر لٹکائی جاتی تھیں۔ ان کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص بعض خطوط بھی تھے“۔ شیخ الرویس کے مطابق حجرے کی اشیاء کا معائنہ اور ان کی فہرست کی تیاری کا کام 15 روز تک جاری رہا۔ ایک دل چسپ امر سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان عبدالمجید کی بیٹی کے زیورات کی موجودگی تھی۔

جس نے مدینہ منورہ کے دورے کے موقع پر ان زیورات کو شادی شدہ خواتین کے لیے وقف کے طور پر رکھوا دیا تھا۔ شیخ الرویس نے بتایا کہ کام کی تکمیل کے بعد تشکیل کردہ کمیٹی کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات یہ تھیں: ”مدینہ منورہ کے لیے مختص زیورات کو مدینے کے میوزیم میں محفوظ کیا جائے۔ آثارِ عامہ کو وزارت تعلیم کے زیر انتظام آثاریات کے تحت محفوظ کیا جائے۔ علاوہ ازیں دیگر جواہرات ، سونے اور چاندی کو وزارت مالیات اور مالیاتی ادارے کے حوالے کیا جائے تا کہ انہیں چوری کیے جانے یا لُوٹے جانے کا کوئی خطرہ نہ ہو۔“

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…