اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ(درندے کا جوٹھا پاک یا ناپاک؟)

datetime 16  مئی‬‮  2017 |

بُنان حمال چوتھی صدی ہجری کے بزرگوں میں سے ہیں، اصل بغداد کے تھے لیکن مصر میں رہنے لگے تھے، عوام و خواص دونوں میں ان کی بڑی مقبولیت تھی، اللہ والوں کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دی جاتی ہے، وہ دلوں کے بے تاج بادشاہ ہوتے ہیں، حمال نے بادشاہِ مصر ابن طولون کو ایک مرتبہ نصیحت فرمائی، ابن طولون تاب نہ سخن نہ لا سکا اور ناراض ہو کر اس نے حکم دیا کہ انہیں خونخوار شیر کے سامنے ڈال دیا جائے،

انسان اپنے جذبہ انتقام کی تسکین کے لئے سزا کے بھی عجیب طریقے ایجاد کرتاہے۔ سزا کا جو طریقہ جس قدر سخت ہو گا اس کے جذبہ انتقام کو اسی قدر ٹھنڈک پہنچے گی، بنان حمال کو خونخوار شیر کے سامنے ڈال دیا گیا، شیر لپکا پھر رک کر ان کے جسم کو سونگھنے لگا، دیکھنے والے ان کے جسم کے چیر پھاڑنے کا نظارہ کرنا چاہتے تھے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! جب دیکھا کہ شیر انہیں کچھ نہیں کہہ رہا، تب انہیں اس کے سامنے سے اٹھا دیا، اس سے بڑھ کر عجیب بات یہ ہوئی کہ جب ان سے پوچھا گیا ’’شیر کے سونگھتے وقت آپ کے دل پر کیا گزر رہی تھی؟‘‘ فرمانے لگے ’’میں اس وقت درندے کے جوٹھے کے متعلق علماء کے اختلاف کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اس کا جوٹھا پاک ہے یا ناپاک‘‘۔
تقدیر کا قاضی (اللہ جس کو رہا کرنا چاہئے، میں اسے روک نہیں سکتا)
چوتھی صدی ہجری میں منصور نامی ایک شخص اندلس کا حکمران گزرا ہے، اس نے کسی جرم میں ایک آدمی کو گرفتار کر لیا، مجرم کی والدہ نے بیٹے کی رہائی کیلئے رحم کی اپیل کی جس سے منصور مزید بگڑ گیا اور قلم ہاتھ میں لے کر لکھنا چاہا ’’اسے پھانسی دی جائے‘‘ لیکن لکھا ’’اسے رہا کیاجائے‘‘۔ وزیر نے وہ رقعہ لے کر اس کی رہائی کا حکم جاری کیا۔ منصور نے پوچھا! کیا لکھا؟

کہنے لگا ’’فلاں کی رہائی کے لئے لکھا‘‘ منصور بھڑک اٹھا ’’اسے پھانسی دی جائے، رہائی کا کس نے کہا ہے؟‘‘ وزیر موصوف نے اس کو پرچی تھما دی جس پر ’’اسے رہا کیا جائے‘‘ لکھا تھا، کہنے لگا، یہ غلطی سے لکھ دیا ہے، اس کو پھانسی دینی ہے اور سابقہ حکم مٹا کر لکھنا چاہا ’’اسے پھانسی دی جائے‘‘ لیکن لکھا ’’اسے رہا کیا جائے‘‘۔ وزیر نے حکم کے مطابق رہائی کا حکم دیا۔ منصور نے پوچھا! کیا لکھا؟

کہنے لگا ’’فلاں کی رہائی کیلئے لکھا‘‘۔ منصور آگ بگولہ ہوا ’’اسے پھانسی دینی ہے پھانسی، رہائی کا کس نے کہا ہے‘‘ وزیرنے پھر اسی کا لکھا ہوا رقعہ سامنے کیا جس میں رہائی کیلئے لکھا ہوا تھا، کہنے لگا، یہ غلطی ہو گئی ہے لیکن تیسری بار بھی اسی طرح ہوا، منصور کے قلم سے پھانسی کی بجائے اس کے لئے آزادی کا پروانہ جاری ہوا، جب تین بار اس طرح ہوا تو تقدیر کے قاضی کے سامنے منصور کو بھی سر تسلیم خم کرنا پڑا، کہنے لگا ’’اسے میرے نہ چاہنے کے باوجود رہا کر دیا جائے، اللہ جس کو رہا کرنا چاہئے، میں اسے روک نہیں سکتا ہوں‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…