اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

وہ رقم میری والدہ کی تھی

datetime 16  مئی‬‮  2017 |

ابو عمرو بن نجید چوتھی صدی ہجری کے مشہور بزرگوں میں سے ہیں‘ ایک مرتبہ سرحدات کی حفاظت کیلئے رقم ختم ہو گئی‘ امیر شہر نے اہل خیر حضرات کو ترغیب دی اور سرمجلس رو پڑے‘ ابو عمرو بن نجید نے دو لاکھ درہم کی خطیر رقم رات کے وقت آ کر انہیں دیدی‘ امیر نے اگلے دن لوگوں کو جمع کیا‘ تعاون کرنے والے ابوعمرو کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے مسلمانوں کی بروقت بڑی امداد کی‘

لوگوں کی حیرت کی انتہاء نہ رہی‘ جب ابو عمرو اسی مجلس میں کھڑے ہو کر فرمانے لگے ’’وہ رقم میری والدہ کی تھی‘ میں نے دیتے وقت ان سے پوچھا نہیں تھا‘ جب کہ وہ راضی نہیں ہیں لہٰذا یہ رقم واپس کر دی جائے‘‘ امیر نے واپس آ کر دی‘ اگلی رات ابوعمر دوبارہ وہ رقم لے کر حاضر ہوئے اور کہا کہ ’’یہ رقم لے لیں لیکن اس شرط کہ آپ کے علاوہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ یہ کس نے دی ہے‘‘۔ امیر کی آنکھیں اشک بار ہوئیں‘ کہا ’’ابو عمرو! تم اخلاص کی کس قدر بلندی پر ہو‘‘؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…