اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

خوش نصیب

datetime 15  مئی‬‮  2017 |

یونان میں ایک شخص سولن گزرا ہے۔ یہ ایک مانا ہوا فلسفی اور شاعر تھا۔ ایک بار قبرص کے بادشاہ “کریس” نے سولن کو اپنے ملک میں مدعو کیا۔ ملاقات کے دن بادشاہ اپنے بیش قیمت لباس اور ہیرے جواہر زیب تن کر کرے تخت پر جلوہ افروز ہوا اور پورے شاہانہ طریق سے سولن کا انتظار کرنے لگا۔ سولن آیا اور اطمینان و بے نیازی سے بادشاہ کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے بادشاہ کے جاہ و جلال پر کوئی توجہ نہ دی۔

بادشاہ نے بے چین ہوگیا۔ اس نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ سولن کو ہمارے خزانے دکھائے جائیں۔ وزیر نے سولن کے سامنے سونے، چاندی اور لعل و زمرد کے ڈھیر لگوا دیئے۔ یہ چمک دمک بھی سولن کو متاثر نہ کرسکی اور وہ بے پرواہ بیٹھا رہا۔ بادشاہ سے رہا نہ گیا۔ اس نے بلندآواز سے سولن کو مخاطب کیا۔”سولن تم یونان کے نامور فلسفی ہو’ بتاؤ تمہارے نزدیک دنیا کا سب سے خوش نصیب آدمی کون ہے؟”سولن نے پر وقار لہجے میں‌ کہا۔ “بادشاہ میرے ملک میں ایک یلس نامی ایک آدمی بہت خوش نصیب تھا۔ وہ بہادر، نیک، اور اچھے بچوں کا باپ تھا۔ اس نے اپنے وطن کی خاطر لڑتے لڑتے جان دے دی۔”اس کے بعد دوسرا سب سے خوش نصیب انسان کون ہے؟؟ بادشاہ نے سوال کیا،سولن نے جواب دیا۔”دو بھائی سب سے زیادہ خوش نصیب ہیں انہوں نے اپنی ماں کی خدمت کرتےکرتے جان دی”بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اور کہا” کیا تم ہمیں خوش نصیب نہیں سمجھتے؟”سولن بولا”خوش نصیب وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ خوش نصیبی زندگی کے آخری لمحے تک رہے۔ جس کی زندگی ابھی ختم نہ ہوئی ہو اس کے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ انسان کی زندگی ہمیشہ ایک حالت پر برقرار نہیں رہتی”۔بادشاہ مشتعل ہو گیا اور اس نے سولن کے ساتھ انتہائی نفرت اور حقارت کا سلوک کیا۔کچھ عرصہ بعد شہنشاہ سائرس نے قبرص فتح کر لیا اور بادشاہ کریس کو زندہ جلانے کا حکم دیا۔ کریس کو جلانے کےلئے لکڑیوں پر بٹھا دیاگیا۔

اس کے منہ سے درد ناک چیخ نکلی “ہائے سولن”۔فاتح شہنشاہ نے ہاتھ اٹھا کر اچانک کاروائی رکوا دی اور قریب جا کر سوال کیا”ہائے سولن سے تمہاری کیا مراد ہے؟”کریس نے پورا واقعہ سنا دیا۔ فاتح یہ واقعہ سن کر مغلوب ہو گیا۔ اس نے کریس کی جان بخش دی اور اس کے ساتھ عزت و تکریم سے پیش آیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…