ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

عالمگیر کی بیٹی کی شعر گوئی

datetime 1  اپریل‬‮  2017 |

عارفین نے ایک ایرانی بادشاہ کا واقعہ تحریرفرمایاہے کہ اس کی زبان سے ایک مرتبہ ایک مصرع نکل گیا ع۔”دُرابلق کسے کم دیدہ موجود” کہ چت کبرا موتی کسی نے بہت کم دیکھا ہے ،اس نے اپنے ملک کے نامور شعراء کو جمع کیا اوراس پر مصرع ثانی لگانے کی پیش کش کی ،تمام شعرا نے بڑا ذہن کھپایا مگروہ مصرعِ ثانی لگانے میں ناکام رہے چونکہ یہ بھی وقت وقت کی بات ہوتی ہے ،

ذہن نہیں چلتا اورکبھی ذہن بڑی سرعت سے مائل ہوجاتا ہے۔ ایرانی بادشاہ کے شعراء جب کامیاب نہ ہوپائے تو اس نے ہندستان میں عالمگیرکو لکھا کہ اس کادوسرا مصرع بنوادیجئے ،یہاں کے شعراء نے بھی کوشش کی مگروہ بھی کامیاب نہ ہوسکے ،بادشاہ کی ایک بیٹی ،مخفی جن کا تخلص تھا،اس نے والد گرامی کی پریشانی دیکھ کر معلوم کیا کہ کیا معاملہ ہے؟ اس نے کوشش کی اوروہ کامیاب ہوگئی
دُرابلق کسے کم دیدہ موجود
مگراشک بتانِ سرمہ آلود
کہ چت کبرا گھوڑاکسی نے بہت کم دیکھاہے مگر نازنینوں کی سرمہ آلودآنکھوں سے ٹپکنے والا آنسوکہ وہ سرمہ کی سیاہی اورآنکھ کے پانی کی وجہ سے چت کبرا ہوجاتا ہے اورآنسوکو موتی سے تشبیہ دی ہے۔ بادشاہ بہت خوش ہوا اورایرانی بادشاہ کو لکھ بھیجا۔ ایرانی بادشاہ کی مسرت کا کیاپوچھنا اس نے فوراً اپنا قاصد ہندوستان بھیجا اوردرخواست کی کہ اپنے ملک کے اس شاعر کو ایران بھیج دیجئے ہم اس کو ایوارڈ دینا چاہتے ہیں ،اس کا اعزازکرنا چاہتے ہیں،بادشاہ کو بڑی تشویش ہوئی کیونکہ لڑکیوں کو پردہ میں رکھنے کا مزاج تھا اورعورت پردہ ہی کی چیزبھی ہے۔ عالمگیر کی بیٹی نے جب اپنے والد کا اضطراب وبے چینی دیکھی ،باغیرت بیٹی نے ،ایک شعر لکھا اوردرخواست کی کہ ایرانی قاصد کو یہ شعر دیدیجئے وہ شعر تھا ؎
درسخن من مخفی منم چوں بوئے گل در برگِ گل
ہرکہ دیدن میل دارد درسخن بیند مرا

کہ میں اپنے شعر میں اس طرح چھپی ہوئی ہوں جیسے پھول کی پتی میں خوشبو ہوتی ہے جو مجھے دیکھنا چاہے وہ میرے کلام ،میری سخن اورمیری بات میں مجھے دیکھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کوبھی جو انسان دیکھنا چاہے وہ اس کے کلام (قرآن پاک )کی تلاوت کرے ،اسی میں اللہ تعالیٰ چھپاہوا ہے اورانسان کو اس میں اللہ ملے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…