مصطفی کی والدہ بہت بوڑھی ہو چکی تھیں۔ مصطفی سارا دن ان کی خدمت کرتا۔ ایک آواز پہ بھاگا آتا۔کسی کی دعوت قبول نہ کرتا۔ سب سے کہتا ؛ گھر آ جاؤ ، میں ماں کو اکیلا چھوڑ کے باہر نہیں جا سکتا۔بظاہر ماں کو کوئی محتاجی نہیں تھی۔
وہ واش روم اور کچن تک اکیلی جا سکتی تھیں۔ مگر وہ بیٹے کی غیر موجودگی میں گھبرا جاتیں۔ایک دن دوستوں نے مصطفی کو مجبور کر دیا کہ ہمارے ساتھ پکنک پر چلو۔ سب دوست جھیل کی سیر کو نکل پڑے۔مصطفی نے اپنی غیر موجودگی میں ایک ملازمہ کو ماں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی اور دوستوں کے ساتھ ہو لیا۔ شام جب گھر پہنچنے لگے تو مصطفی کو ملازمہ نے فون پہ بتایا کہ اماں گِر پڑی ہیں۔اگلے دن جب سب دوست اکٹھے ہوئے مصطفی سے دوستوں نے رات اماں کی طبیعت جاننا چاہی۔ مصطفی کچھ پریشانی میں بولنے لگا:’’ انھوں نے شام کو مجھے پکارا تو ملازمہ بھاگی آئی مگر مجھے سامنے نہ پا کے شدید گھبرا گئیں۔ اور مجھے زور زور سے پکارنی لگیں۔اسی حالت میں اٹھنے لگیں تو گر گئیں۔‘‘مصطفی نے سرد آہ بھری اور بات جاری رکھی:’’میں نے پہلی دفعہ ان کے لئے اپنی موجودگی کو ایسے محسوس کیا جیسے میں انھیں دودھ پیتے بچے کی عمر میں پکارا کرتا تھا۔کل ان کی تکلیف میرے اندر ایک ماں کی طرح سرایت کر گئی۔کل رات میں بچے کے لیے ایک ماں کی طرح رویا۔ واقعی ماں بننا مشکل ہے مگر بیٹا بننا ماں سے بھی زیادہ مشکل ہے۔‘‘



















































