ایک شخص نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور فرمایا، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہاتھ آگے کریں میں اسلام لانا چاہتا ہوں اور آپکے مبارک ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتا ہوں تو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ آگے کیا تو صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم مجھے کرنا کیا ہوگا اسلام لانے کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آپ کو پڑھنا ہوگا:
“لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ترجمہ:۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کے رسول ہیں۔ پڑھنے کے بعد آپ اسلام میں داخل ہوجاتے ہو اور آپ پر فرض ہوجاتا ہے نماز ،روزہ ،زکوۃ،جہاد،حج آپ پر فرض ہیں اس کی کوئی معافی نہیں زندگی کے آخری سانس تک آپ کو کرنا ہوگا آپ پر فرض ہوگا تو اس صحابی نے فرمایا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (زکوۃ اور جہاد) میں نہیں کرسکتا۔ میں غریب آدمی ہوں میرے پاس دو آونٹنی ہیں جن کا دودھ بیچ کر گھر اور بچوں کے اخراجات پورے کرتا ہوں اور جہاد اس لئے نہیں کرسکتا کیونکہ میرا دل بہت کمزور ہے ڈرتا ہوں اور میں نے سنا ہے جہاد سے بھاگنے والے پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے ،ڈرتا ہوں کہ جہاد میں جاؤں تو میں بھاگ نہ جاؤں اللہ کے عذاب سے ڈرتا ہوں اس لئے جہاد نہیں کرسکتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ واپس کھینچ لیا جو بیعت کے لئے ہاتھ آگے کیا تھا، اور فرمایا (زکوۃ اور جہاد) بھی نماز کی طرح فرض ہے زکوۃ اور جہاد نہیں ادا کروگے تو جنت کیسے آپ کو مل سکتی ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’الجنتہ تحت ظلال السیوف‘‘ترجمہ: جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے تو اس صحابی نے پھر فرمایا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہاتھ آگے کریں میں زکوۃ بھی ادا کرونگا اور جہاد بھی کرونگا اور پھر بعیت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا دی اور پھر وہ صحابی رضی اللہ عنہ میدان جنگ میں چلا گیا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگیا۔



















































