ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

موت برحق ہے

datetime 29  مارچ‬‮  2017 |

کہتے ہیں کسی جگہ ایک دیہاتی نے کافی بھیڑیں پال رکھی تھیں۔ وہ ان کی بہت اچھے سے نگہداشت کرتا، چارہ ڈالتا، پانی ڈالتا۔ سردیوں میں سردی سے، اور گرمیوں میں گرمی سے بچاتا۔ لیکن وہ یہ سب بے مقصد نہیں کرتا تھا۔ گرمیوں میں وہ ان سب بھیڑوں کی وقفے وقفے سے اون اتارتا جسے بیچ کر وہ کافی منافع کماتا اور اگر کبھی اس کے گھر زیادہ مہمان آتے تو وہ ان کی خاطر مدارت بھی بھیڑ کے گوشت سے ہی کرتا۔

لیکن اس کا طریقہ ہوتا تھا کہ وہ کبھی بھی کسی بھیڑ کی اون اتارتا یا کسی کو ذبح کرتا تو اپنی حویلی سے ذرا دور جا کر کرتا تاکہ دوسری بھیڑوں کو اِس کا علم نہ ہو۔اگرچہ وہ دوسری بھیڑوں کے سامنے نہ تو اون اتارتا اور نہ ہی ذبح کرتا تھا، لیکن جیسے ہی کبھی مالک ایک بھیڑ کو کان سے پکڑ کر باہر لیجاتا تو باقی بھیڑیں دْعائیں مانگتیں کہ ’’یااللہ! ان کی ساتھی زندہ واپس آ جائے اور جب وہ بھیڑ اپنی اون اتروانے کے بعد خوش قسمتی سے زندہ واپس آ جاتی تو سب بہت خوش ہوتیں کہ چلو اون ہی اتاری ہے ذبح تو نہیں کیا لیکن جب کبھی مالک کسی بھیڑ کو لے کر جاتا اور وہ کافی دیر تک وہ واپس نہ آتی تو باقی بھیڑیں خود ہی سمجھ جاتیں کہ وہ ذبح ہو گئی ہے پھر کچھ دیر کے لیے سب غمگین اور افسردہ ہو جاتیں، لیکن پھر آہستہ آہستہ بھوک، پیاس مٹانے کے چکر میں سب کچھ بھول جاتیں حالانکہ وہ سب جانتی تھیں کہ یہ سلسلہ کبھی رکنے والا نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ پل بھر کے لیے سارے غم بھلا کر چارہ کھانے میں مصروف ہو جاتیں اور یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہتا۔اگر غور کریں تو ہم انسانوں کی زندگی بھی اِن بھیڑوں سے مختلف نہیں ہے۔ اگرچہ ہمیں معلوم ہے کہ موت برحق ہے، اور ایک دن واقعی مر جانا ہے۔ لیکن پھر بھی اگر کبھی خوش قسمتی سے ہم میں سے کوئی کسی بڑے حادثے یا بیماری سے بچ جاتا ہے تو ہم سب خوش ہو جاتے ہیں، کہ چلو جان تو بچ گئی۔ اور اگر کبھی خدانخواستہ کوئی چل بستا ہے تو ہم سب اس کے غم میں گھڑی بھر کے لیے غمگین ہوتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں۔

لیکن پھر بھیڑوں کی طرح اپنی روزمرہ زندگی کی مصروفیات میں سب کچھ بھلا کر پھر سے دنیاداری میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہتا ہے۔اللہ ہم سب کو موت کی گھڑی کو یاد رکھنے اور اِس کے لیے کما حقہ تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…