ایک مرتبہ امیر المومنین حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ گلی سے گزر رہے تھے۔ دیکھا کہ ایک نابینا بوڑھا ہاتھ میں کشکول لیے بھیک مانگ رہا ہے۔ شکل و صورت سے ذمی معلوم ہوتا تھا۔ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے بازو پر ہلکی سی ضرب لگائی اور پوچھا
’’اہل کتاب کی کس قوم سے تیرا تعلق ہے؟‘‘ نابینا بھکاری: ’’یہودی ہوں۔‘‘ امیر المومنین: ’’میں تجھے کشکول اٹھائے دیکھتا ہوں۔ آخر ماجرا کیا ہے؟‘‘ نابینا بھکاری: ’’ایک تو جزیہ ادا کرنا ہوتا ہے۔ دوسرا میری زندگی کی ضروریات بھی ہیں‘ تیسرا میں بوڑھا ہوں اس لیے کما نہیں سکتا۔ پھر میری ضروریات زندگی کا مسئلہ کیسے حل ہو اور جزیہ کہاں سے ادا کروں؟ لہٰذا بھیک مانگ رہا ہوں۔ ‘‘امیر المومنین نے جب اس کی بات سنی‘ تو اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور ممکن حد تک مال عطا فرمایا۔ پھر بیت المال کے خازن کو بلا کر حکم دیا: ’’اس نابینا بوڑھے یہودی اور اسی طرح کے دوسرے اہل کتاب کا خوب خیال رکھو! اللہ کی قسم! ہم نے اس بوڑھے یہودی کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ اس کی جوانی میں تو ہم اس سے ٹیکس لیتے رہے، اب بڑھاپے میں اس کو ذلیل کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: ’’یقیناًصدقات و خیرات فقرا، مساکین کے لیے ہیں۔‘‘ (التوبہ: ۰۶) لہٰذا یہ بوڑھا نابینا اہل کتاب کے مسکینوں میں سے ہے۔‘‘ امیر المومنین نے پھر بوڑھے اور اس کے مانند دوسرے ضعیف و غریب اہل کتاب پر سے جزیہ ساقط کر دیا۔



















































