ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

بلبل مذکر هے یا مؤنث؟

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

ایک پروفیسر صاحب کے بارے میں مشہور تھا کہ ان سے جب کوئی سوال پوچھا جاتا تو وه اس وقت تک چین سے نہ بیٹھتے ، جب تک کہ پوری تفصیل اور تسلی سے جواب نہ دے دیں ، بلکہ بعض اوقات تو سوال پوچھنے والا تنگ آ کر اس وقت کو کوستا جب اس نے ان سے سوال کیا تھا۔ ایک صاحب کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں اور پروفیسر صاحب ایک لائبریری میں بیٹھے تھے کہ میرے ذہن میں ایک سوال آیا ،

جو میں نے غلطی سے پروفیسر صاحب سے پوچھ لیا۔ میں نے دریافت کیا کہ حضرت یہ بتائیے کہ بلبل مذکر هے یا مؤنث؟ پروفیسر صاحب اس وقت کسی کتاب کے مطالعے میں محو تھے ، میرا سوال سن کر موصوف نے کتاب بند کی، ایک لمحے کو کچھ سوچا ، پھر مسکرا کر گویا هوۓ، ” میاں! بلبل مذکر هے۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور جواب سے مطمئن هو گیا۔ اس واقعے کے کچھ روز بعد ایک شام میرے دروازے پر دستک هوئی۔ گھر میں اس وقت کچھ مہمان بیٹھے تھے ، میں نے دروازه کھولا تو دیکھا کہ پروفیسر صاحب موصوف کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ پروفیسر صاحب خیریت تو ہے ، آپ میرے غریب خانے پر اس وقت؟ پروفیسر صاحب کہنے لگے ، ” میاں اس روز آپ نے پوچھا تھا کہ بلبل مذکر هے یا مؤنث ؟ اور میں نے جواب دیا تھا کہ بلبل مذکر ہے، لیکن آج ہی مرزا غالب کا ایک مصرع نظر سے گزرا
بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں هو گئیں
غالب کا شمار چونکہ اہل زبان اور مستند شعراء میں ہوتا ہے ، لہذا اس مصرع کی رو سے بلبل مؤنث ہے۔ میں نے ان کے خلوص و محبت کا بہت شکریہ ادا کیا کہ وه بے چارے میرے سوال کا جواب دینے میرے گھر تک تشریف لاۓ۔ ابھی چند روز ہی گزرے ہوں گے کہ ایک صبح میرے دروازے پر زور زور سے دستک هوئی، میں گہری نیند میں تھا ، دستک کی آواز سنی تو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ، دروازه کھولا تو پروفیسر صاحب کھڑے مسکرا رہے تھے۔ میں نے انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور صبح صبح تشریف آوری کا سبب دریافت کیا۔

پروفیسر صاحب فرمانے لگے ، “میاں ، کچھ روز قبل میں نے آپ کو بتایا تھا کہ غالب کے مصرع کی رو سے بلبل مؤنث هے، لیکن آج صبح جب میں کلیات اقبال کا مطالعہ کر رہا تھا تو ایک شعر نظر سے گزرا
ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا
علامہ اقبال چونکہ شاعر مشرق ہیں۔ ان سے زیادہ مستند کس کی راۓ ہو سکتی هے ، لہذا اس شعر کی روشنی میں آپ اب بلبل کو مذکر ہی سمجھیے۔ میں نے پروفیسر صاحب کا شکریہ ادا کیا اور ان کے جانے کے بعد خدا کا بھی شکر ادا کیا کہ چلو اب اس بلبل والے قصے سے تو جان چھوٹی، لیکن میرے ایسے نصیب کہاں! ابھی ایک ہفتہ ہی گزرا ہو گا کہ ایک شام جبکہ میں ٹی وی پر اپنا پسندیدہ پروگرام دیکھنے میں مگن تھا، دروازے پر دستک هوئی ۔ دروازے پر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پروفیسر صاحب کھڑے ہیں۔ ان سے چند فٹ کے فاصلے پر ایک عدد گدھا بھی کھڑا تھا جس پر بہت سی کتابیں لدی هوئی تھیں۔ اس روز پروفیسر صاحب کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔ میں نے حیرت سے دریافت کیا ، ” پروفیسر صاحب یہ کیا معاملہ ہے؟ وه اسی فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ کچھ یوں گویا ہوۓ، ” میاں ، آپ کے سوال پر میں نے بہت تحقیق کی ہے اور بہت سی کتابوں سے استفادہ کیا۔ اس گدھے کے دائیں جانب جو کتابیں لدی هیں ، ان کے مطابق بلبل مذکر هے جبکہ بائیں جانب والی کتابوں کی رو سے بلبل مؤنث هے، اب فیصلہ آپ خود کر لیجیۓ کہ آپ کس راۓ سے اتفاق کریں گے۔ مجھے اجازت دیجئے، ایک ضروری کام یاد آ گیا هے۔ان کے رخصت ہوتے ہی میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا اور سچے دل سے توبہ کی کہ آئنده پروفیسر صاحب سے کوئی سوال نہ پوچھوں گا ـ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…