حضرت یوسفؑ کے زمانے میں گندم کی کمی تھی، حکومت نے گندم اسٹور کی ہوئی تھی اور دینے کے لیے حضرت یوسفؑ کا حکم چلتا تھا، انہوں نے کارندوں کو کہا ہوا تھا کہ اگر کوئی آئے تو اتنی قیمت لینا اور اس کے بدلے ہر بندے کو اتنی گندم دے دینا، ایک نوجوان آیا کہ گندم چاہیے، لوگوں نے دستور
اور روٹین کے مطابق اس کو دے دی، وہ کہنے لگا جی اور چاہیے، انہوں نے کہا بھئی ہم تو ایک قانون کے مطابق دیتے ہیں، تجھے اگر زیادہ چاہیے تو پھر یوسفؑ کے پاس جا ان کے اختیار میں ہے، وہ جس کو چاہے جتنا دے دے، وہ نوجوان حضرت یوسفؑ کے پاس آیا، حضرت مجھے اور گندم چاہیے، انہوں نے دلوا دیا، وہ کہنے لگا حضرت اور چاہیے، او خدا کے بندے! اتنی گندم انہوں نے بھی دی، اتنی گندم میں نے بھی دلوائی اور مانگتا ہے تیرا جی نہیں بھرتا۔ اس نے کہا حضرت آپ کو پتہ چل جائے کہ میں کون ہوں تو آپ مجھے بہت زیادہ دیں، جب اس نے یہ الفاظ کہے تو حضرت یوسفؑ متوجہ ہوئے اور پوچھا تو کون ہے؟ اس نے کہا حضرت جب زلیخا نے آپ پر بہتان باندھا تھا تو جس چھوٹے بچے نے آپ کی پاک دمنی کی گواہی دی تھی وہ چھوٹا بچہ میں ہوں، اب بڑا ہو کرجوان ہو گیا ہوں، حضرت نے جب یہ سنا تو اتنا پیار آیا کہ اس بچے کو سینے سے لگایا اور اس کو گندم بھی دلوائی اور انعام بھی دلوایا، بلکہ
لوگوں کو کہا کہ اس کو گھر پہنچا کے آؤ، جب لوگ اس کو گھر پہنچانے کے لیے گئے، اللہ تعالیٰ نے یوسفؑ پر وحی نازل فرمائی کہ اے میرے پیارے پیغمبرؑ آپ نے اس نوجوان کا بڑا ہی اکرام کیا، تو عرض کی اے اللہ یہ وہ نوجوان ہے جس نے میری پاک دامنی کی گواہی دی تھی، آج یہ جب میرے سامنے آیا تو
میرا جی چاہا کہ میں اتنا دوں جتنا میں دے سکتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے یوسفؑ گواہ رہنا، اس نے آپ کی پاک دامنی کی گواہی دی جب وہ آپ کے پاس آیا، آپ نے اتنا دیا جو آپ کے مقام کے مناسب تھا، تو میں پروردگار بھی کہتا ہوں کہ جو میرا بندہ دنیا میں میری وحدانیت کی گواہی دے گا جب قیامت کے
دن میرے پاس آئے گا میں بھی اس کو اتنا دوں گا جو میری شان کے مناسب ہو گا، یہ ہے محبت خدا کی ایک جھلک کہ صرف توحید پر اپنی شان کے مطابق عنایت کریں گے تو اگر توحید کے ساتھ دل محبت سے بھی چھلک رہا ہو تو کس قدر نوازا جائے گا، اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔



















































