حضرت شبلیؒ اللہ کی محبت میں فنا ہو چکے تھے، کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ان کو مجنون سمجھ کر کسی نے پتھر مارا، جس کی وجہ سے خون نکل آیا، ایک آدمی دیکھ رہا تھا، اس نے جب خون نکلتا دیکھا تو کہا کہ چلو میں پٹی باندھ دیتا ہوں، لہٰذا اس نے بچوں کو ڈرایا دھمکایا اور ان کے قریب ہوا، وہ
دیکھ کر حیران ہوا کہ جو قطرہ بھی خون کا نکلتا ہے وہ زمین پر گرتے ہی اللہ کا لفظ بن جاتا ہے، وہ حیران ہوا کہ اس بندے کے رگ و ریشہ میں اللہ تعالیٰ کی کتنی محبت سمائی ہو گئی کہ خون کا جو قطرہ بھی گرتا ہے وہ اللہ کا لفظ بن جاتا ہے، اس کے بعد اس نے زخم پر پٹی باندھ دی۔حضرت شبلیؒ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی اتنی محبت تھی کہ جب کوئی ان کے سامنے اللہ کا نام لیتا تھا وہ اللہ کا لفظ بن جاتا ہے، اس کے بعد اس نے زخم پر پٹی باندھ دی۔حضرت شبلیؒ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی اتنی محبت تھی کہ جب کوئی ان کے سامنے اللہ کا نام لیتا تھا تو وہ جیب میں ہاتھ ڈالتے تھے اور جیب سے مٹھائی نکال کر اس بندے کے تو وہ جیب میں ہاتھ ڈالتے تھے اور جیب سے مٹھائی نکال کر اس بندے کے منہ میں ڈال دیتے تھے، کسی نے کہا کہ آپ یہ کیا کرتے ہیں کہ لوگوں کے منہ میں مٹھائی ڈالتے ہیں؟ وہ کہنے لگے کہ جس منہ سے میرے محبوب کا نام نکلے میں اس منہ کو شیرینی سے نہ بھر دوں تو پھر اور کیا کروں۔



















































