ایک مرتبہ حضرت ضرار بن ازورؓ جہاد کرتے ہوئے دشمن کے گھیرے میں آ گئے اسی حالت میں کئی گھنٹے لڑتے بھڑتے ان کا گھوڑا تھک گیا، وہ چاہتے تھے کہ گھوڑے کو بھگائیں مگر گھوڑا اتنا تھک چکا تھا کہ بھاگنا مشکل تھا، چاروں طرف ان کے دشمن تھے اور انہوں نے بھی دیکھ لیاتھا کہ اب گھوڑا
بھاگ نہیں سکتا، انہوں نے گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا تاکہ انہیں زندہ گرفتار کر سکیں، جب انہوں نے دیکھا کہ اب دشمن میرے اتنے قریب آ رہے ہیں تو یہ زیادہ متفکر ہوئے اور گھوڑے کی لگام کھینچی مگر گھوڑا تھکن کی وجہ سے آگے بڑھتا ہی نہیں تھا، کتاب میں لکھا ہے وہ اس وقت گھوڑے پر آ جھکے اور اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیر کر کہنے لگے: اے گھوڑے! تو تھوڑی دیر کے لیے میرا ساتھ دے دے ورنہ میں نبی کریمؐ کے روضے پر جا کر تیری شکایت کروں گا، یہ الفاظ کہنے تھے کہ گھوڑا ہنہنایا اور ایسے بھاگنے لگا جیسے تازہ دم ہو، انہوں نے دشمن کا حصار توڑا اور گھیرے سے باہر تشریف لے آئے، گھوڑے تھک جاتے تھے مگر مجاہد نہیں تھکا کرتے تھے، کیسے لوگ تھے۔۔۔! ’’یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اللہ سے وعدہ سچ کر دکھایا‘‘ ان کی زندگی کے ان حالات کو پڑھ کر حیران ہوتے ہیں، کیا وجہ تھی۔۔۔؟ ان کے دل اللہ رب العزت کی محبت سے لبریز تھے، اسی لیے اللہ کے نام پر قربان ہو جانا ان کی زندگی کا مقصد ہوتا تھا، وہ لوگ استقامت کے پہاڑ تھے اور اللہ رب العزت کو یہی استقامت پسند ہے۔



















































