صحابہ کرامؓ کے دلوں میں اللہ رب العزت کے ساتھ بے پناہ محبت تھی، چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ احد کی لڑائی میں دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں، اگلے دن فائر کھلنا ہے، لڑائی شروع ہونی ہے، دو صحابہؓ آپس میں دوست ہیں، ایک حضرت سعد بن وقاصؓ اور دوسرے حضرت عبداللہ بنی حجشؓ، وہ ایک
دوسرے سے کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریمؐ سے سنا ہے کہ مجاہد جب اللہ کے راستے میں نکل کر دعا مانگتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں، دوسرے نے کہا میں نے بھی سنا ہے، کہنے لگے کیوں نہ ہو، میں دعا مانگتا ہوں آپ آمین کہنا اور پھر آپ دعا مانگئے گا پھر میں آمین کہوں گا، ہماری دعائیں قبول ہو جائیں گی، انہوں نے کہا بہت اچھا، چنانچہ دونوں ایک طرف کو گئے۔حضرت سعدؓ نے دعا مانگی: اے اللہ! کل کو میرا مقابلہ دشمن کے کسی بڑے سے ہو، وہ مجھ پر اٹیک کرے میں اس پر وار کروں، اے مالک! ہمارا خوب مقابلہ ہو، بالآخر میں اس پر ایسا وار کروں کے تیرے راستے میں اس کو قتل کر ڈالوں اور دشمن کے کسی بڑے کو قتل کرنے کا اعزاز مجھے حاصل ہو اور مالِ غنیمت حاصل ہو، دوسرے نے کہا: آمین۔اب حضرت عبداللہ بن حجشؓ کی باری تھی، انہوں نے دعا مانگی، کہا: اے پروردگار! کل میرا مقابلہ کسی بہادر، سخت حملہ آور، غصہ والا دشمن سے ہو، وہ مجھ پر وار کرے اور میں اس پر وار کروں، ہمارا خوب ایک دوسرے سے مقابلہ ہو، اور بالآخر وہ مجھ پر ایسا وار کرے کہ مجھے تیرے راستے میں شہید کر دے،
اے اللہ! پھر وہ میری ناک کاٹ دے اور میرے کانوں کو کاٹ لے، اے آقا! میں قیامت کے دن اسی حال میں آپ کے سامنے کھڑا کیا جاؤں اور تو مجھ سے پوچھے اے میرے بندے! تیری آنکھوں اور کانوں کا کیا بنا؟ اور میں عرض کروں اے اللہ! محبت میں یہ نذرانہ آپ کے سپرد کرکے آیا ہوں۔ اندازہ کیجئے کہ محبت ان کو کس قدر اللہ رب العزت کی ملاقات کے لیے بے تاب کر دیتی تھی، یہ جذبہ آج ہمارے اندر موجود نہیں ہے، اگر ہو تو ہماری زندگی کا رنگ بدل جائے اور رفتار و گفتار میں محبت جھلکنے لگے۔



















































