ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

چور

datetime 27  مارچ‬‮  2017 |

میں بینک سے باہر نکلا اور اپنی گاڑی کی طرف آنے لگا تو دیکھا کہ میری گاڑی کے پاس لوگوں کا ایک ہجوم ہے اور سب چیخ رہے ہیں ، مجھے لگا کہ کوئی دھرنا یا احتجاجی ریلی ہے اور میری گاڑی کی آج خیر نہیں پر تھوڑا قریب پہنچنے پر معلوم ہوا کہ یہ کوئی ریلی نہیں بلکہ لوگ میری گاڑی کے قریب کھڑے ایک شخص کو گالیاں دے رہے ہیں اور وہ شخص رو رہا ہے اور خود کو مار بھی رہا ہے ،

پتا نہیں کیا معاملہ ہے پر جو بھی ہے میری گاڑی کے پاس سے تو ہٹیں نا ! مجھے تو گھر جانے دیں ، پر ایسی بھیڑ میں کسی کو بھی کچھ بولنا خود پر عذاب لینے کے برابر ہے۔ پر گاڑی کے بالکل قریب چلا گیا تو مجمع میں کھڑے ایک آدمی نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ،سر یہ آپکی گاڑی میں سے کچھ چوری کررہا تھا میں نے خود دیکھا ہے اِسے۔مجھے یاد آیا کہ میں بہت دفعہ کی طرح آج بھی گاڑی لوک کرنا بھول گیا تھا اور اندر بینک میں چلا گیا تھا ، خیال کہ آتے ہی میں جلدی سے گاڑی میں گھسا اور دیکھنے لگا کہ کیا چیز غائب ہے پر بہت تلاش کرنے پر بھی مجھے کچھ نہیں پتا چلا کہ ایسی کیا چیز تھی جو چوری ہوئی تھی ،میں غصے میں باہر نکلا اور اس سے پہلے میں کچھ پوچھتا لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا ، کیا لیا ، کیا چوری کیا ؟ پر مجھے غصہ یہ نہیں تھا کہ چوری ہوئی ہے ، مجھے تو غصہ اس بات پر آرہا تھا کہ مجھے پتا تو چلے کہ چور نے آخر میری گاڑی سے کونسا قیمتی سامان چرایا ہے ، میں نے ایک نظر اس آدمی پر ڈالی تو وہ واقعی کچھ چھپا رہا تھا ، میں نے اسے کہا دیکھو ! اس سے پہلے کہ یہ عوام تمھیں مار مار کے تمہارا بھرکس نکال دیں تم خود ہی بتا دو کہ تم نے کیا چرایا ہے؟لیکن پھر جو کچھ ہوا ، میں اسے لفظوں میں ڈھال کر لکھ تو سکتا ہوں پر اس میں چھپے درد ، تکلیف ، محبت کے جذبات کو شاید ٹھیک طرح سے سمجھا نہ پاؤں کیونکہ اسے سمجھنے کے لئے ہمیں اپنے اندر سوئے ہوئے ضمیر کو جگانا پڑے گا ، انسانیت اور انسانیت سے محبت جیسی چیزوں کو جھنجھوڑجھنجھوڑکر پھر سے زندہ کرنا پڑے گا ، اپنی انا کو مار کر غیرت کو للکارنا پڑے گا !

آپ کو میری باتیں لیکچر لگ رہی ہونگی۔پر جب میں نے اس آدمی سے پوچھا تو وہ زار و قطار رونے لگا اور اپنے ہی منہ پر تھپڑ مار مار کر کہنے لگا کہ ہاں ہاں میں چور ہوں ،مجھے بھی باقی چوروں کی طرح مار دو ، زندہ جلادو ، پولیس کے حوالے کردو ، وہ یہ سب کچھ کہہ رہا تھا اور وہاں کھڑا ہر ایک شخص اسے میری طرح ہی گھور کر دیکھے جارہا تھا ، تم لوگ جاننا چاہتے تھے نہ کہ میں نے کون سی قیمتی چیز چرائی ہے تو لو دیکھو ، اس نے قمیص میں سے ایک ڈبہ نکالا ، جسِے دیکھ کر نہ صرف میں بلکہ پورا مجمہ ہی حیرت میں پڑ گیا ، قیمتی چیز ! جسے دیکھ کر پہلے میں نے خود کو کوسا اور پھر باقی عوام کو ،وہ قیمتی چیز کوئی گاڑی کا پارٹ نہیں بلکہ میرا آدھا کھا کر چھوڑا ہو برگر تھا جسے اگر قیمتی کہا جائے تو مجھ جیسے کئی لوگوں پر لعنت ہو گی ، دیکھو لوگوں میں نے یہ قیمتی چیز چرائی ہے دیکھو اِسے، مزدور ہوں 3 دن سے کام نہیں ملا ، دو دن بچوں کو تھوڑا بہت کھلا کر گزارہ کر وا لیا پر آج کچھ نہیں تھا ، میرے بچے بھوکے تھے صاحب ! بھیک مانگنے کا شوق نہیں ہے اور قسم کہا کر کہتا ہوں کہ جتنے لوگ مجھے مارنے کے لئے کھڑے ہیں اگر انہیں اپنا مسئلہ بتاتا تو آدھے مجھے کہتے معاف کرو اور آدھے مجھے کہتے کہ ہٹے کٹے ہو کوئی کام کرو

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…