حضرت امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ جناب عیسٰیؑ پیدائش کے بعد ایک دن میں اتنے بڑے (نظر آ رہے تھے) جیسے دو ماہ کا بچہ ہوتا ہے پھر جب سات ماہ کے ہوئے تو ان کی مادرگرامی ان کا ہاتھ پکڑ کر کاتبوں کے پاس لے گئیں اور ایک استاد کے سامنے انکو بٹھا دیا (اس عمر میں وہ اچھی طرح گفتگو کرنے لگے تھے) اس استاد نے جناب عیسٰیؑ سے کہا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھو، آپؑ نے بسم اللہ پڑھی۔
اس استاد نے کہا “ابجد” پڑھو تو جناب عیسٰیؑ نے سر اٹھایا اور فرمایا: تم جانتے بھی ہو کہ “ابجد” کے کیا معنی ہیں؟ یہ سن کر اس نے ان کو مارنے کے لیے کوڑا اٹھا لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا: اے بزرگوار! مارو نہیں. اگر تم جانتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ مجھ سے پوچھو، میں اس کی تشریح تمہیں بتاؤں گا۔ اس نے کہا: اچھا، تم ہی اسکی تشریح بتاؤ۔ تو فرمایا کہ الف یعنی آلاء الله (الله کی نعمتیں) ب یعنی بهجة الله (الله کی شوکت) ج یعنی جمال اللہ (اللہ کا حسن و جمال) د یعنی دین اللہ (اللہ کا دین)اس کی بعد آپ نے ہوز کی تشریح فرمائی اور کہا کہ..ہ یعنی ہول جہنم (جہنم کی ہولناکی) و یعنی ویل لاهل النار (بڑا افسوس ہے جہنم میں جانے والوں کے لئے) ز یعنی زفیو جہنم (جہنم کی پرشور آواز) پھر “حطی” کی تشریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ حطت الخطايا عن المستغفرین (استغفار کرنے والوں کی کوتاہیوں سے درگزر کیا جائے گا) (پھر) “کلمن” کے بارے فرمایا کہ کلام اللہ (اللہ کا کلام اور اس کے کلمات کو کوئی بھی تبدیل نہیں کر سکتا) (پھر فرمایا کہ) “سَعفص” یعنی ساع بصاع (ایک وزن کا بدلہ اسی کے ہم وزن، جیسا عمل ویسی جزاء) (اس کے بعد فرمایا کہ) “قرشت” یعنی قرشهم جس کے معنی ہیں، ان کو عالم حشر میں لایا جائے گا۔ جب حضرت عیسٰیؑ کی گفتگو اس منزل تک پہنچی تو استاد نے جناب مریمؑ سے کہا کہ اے خاتون! بچے کو لے کر گھر تشریف لے جائیے، یہ تعلیم یافتہ ہے، اسے کسی سے پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ گفتار انبیاء، ص:148



















































