حبیبہ عدویہ رحمتہ اللہ علیہ کی بابت آتا ہے کہ نماز عشاء کے بعد کوئی ایک ساعت گزرتی تو وہ اپنے گھر کی چھت پر چلی جاتیں، اپنی اوڑھنی اپنے گرد کس کر لپیٹ لیتیں کہ بار بار نہ کھلے، قیامِ شب میں کھڑی ہوجاتیں اور اس سے پہلے یوں گویا ہوتیں۔الٰہی ! تارے گہرے ہو چلے ، آنکھیں سونے لگیں’ سب بادشاہوں نے اپنے پھاٹک بند کرلئے،ہر پیار کرنے والا اپنے پیارے کے ساتھ خلوت میں جا چکا اور تیری یہ بندی ہے جو تیرے سامنے آ کھڑی ہوئی ہے
۔اس کے بعد وہ اپنی نماز میں مگن ہوجاتیں،فجر ہوجاتی تو گویا ہوتیں۔الٰہی ! رات جا چکی’ دن چڑھ آیا.. آہ ! کہیں مجھے معلوم ہوجائے تو نے میری نماز قبول کرلی ہے تو خوشیاں کروں، رد کردی ہے تو بین کروں۔تیری عزت کی قسم ! جب تک تو مجھے یہاں رکھے گا تیرے آگے روز کھڑی ہوں گی،ہاتھ پھیلا کرہی رکھوں گی۔ تیرے در کو چھوڑ کر کہاں جاؤں؟ کچھ بھی ہو، میں یہاں سے نہ ہلوں گی۔تیرا کرم جس کو نظر آتا ہو وہ اس کو چھوڑ کر بھلا کہاں جاتا ہے۔



















































