حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ انہوں نے اخبار میں سرگودھا کی ایک عورت کا انٹرویو پڑھا اس کے دو بیٹے تھے دونوں اپنے اپنے وقت میں فوج کے جرنیل بنے ان سے کسی نے انٹرویو لیا تو خوش نصیب ماں ہے کہ جس کے دو بیٹے اور دونوں ایسے شیر بیٹے کہ اپنے اپنے وقت میں جرنیل بنے تو نے ان کی تربیت کیسے کی؟ اس نے کہا تھا کہ میں سادہ سی مسلمان عورت ہوں مگر کسی بزرگ سے میں نے سنا تھا کہ جو عورت باوضو
اپنے بچے کو دودھ پلائے گی اللہ بچے کو بخت لگائیں گے میں نے دونوں بچوں کو الحمد للہ باوضو دودھ پلایا ہے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس عمل کے صدقے دنیا میں عزت و وقار عطا فرما‘ چنانچہ جو عورتیں ایسی نیکی کو اپنا لیتی ہیں اللہ ان کے بچوں کو نیک بخت بنا دیتا ہے جو اللہ رب العزت کی نافرمانی کرتی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں آنکھوں سے دکھاتا ہے کہ دیکھ میں نے تمہیں اولاد مرضی کی نہ دی اور اگر دے بھی دی تو اسے نافرمان بنا دیا۔



















































