جب بہاولپور میں ختم نبوت کے سلسلے میں مقدمہ ہوا تو حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ تشریف لے گئے مخالفین نے وہاں ایک کتاب پیش کی‘ اس کتاب کا ترجمہ مسلمانوں کے عقیدے کیخلاف بنتا تھا‘ وہ کتاب بھی مسلمانوں کے اکابرین کی تھی‘ جج بڑا حیران ہوا اس نے کہا کہ دیکھو یہ تمہاری اپنی کتاب پیش کر رہے ہیں جو تمہاری ہی جڑیں کاٹ رہی ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ذرا وہ کتاب مجھے دکھائی جائے۔
جج نے کتاب دکھائی حضرت نے کتاب کے صفحے کا مطالعہ کیا اور فرمانے لگے کہ جس کاتب نے یہ کتاب لکھی اس سے اصل کتاب سے لکھتے ہوئے درمیان میں سے ایک سطر چھوٹ گئی ہے اس وقت تو مطبوعہ کتابیں نہیں ہوتی تھیں بلکہ مخطوطہ کتابیں ہوتی تھیں‘ اس سطر کے چھوٹ جانے کی وجہ سے جب پچھلی عبارت کو اگلی عبارت سے ملا کر پڑھتے تو معافی مخالف بن جاتے‘ لہٰذا حضرت نے فرمایا کہ اسی کتاب کا ایک نسخہ اور منگوایا جائے‘ چنانچہ ایک اور نسخہ منگوایا گیا جب دونوں نسخوں کو ملایا تو علامہ انور شاہ کشمیری کی بات بالکل ٹھیک نکلی‘ چنانچہ اس طرح مخالفین کے جھوٹ کا پول کھل گیا لیکن بعد میں علماء نے کہا حضرت! آپ کو تو توقع ہی نہیں تھی کہ وہ اس کتاب کا حوالہ پیش کریں گے آپ کو کیسے یاد رہا کہ درمیان سے ایک سطر چھوٹی ہوئی ہے؟ فرمایا ہاں میں نے ستائیس سال پہلے یہ کتاب دیکھی تھی الحمد للہ کہ مجھے اس وقت سے یہ بات یاد ہے۔ سبحان اللہجب بہاولپور میں ختم نبوت کے سلسلے میں مقدمہ ہوا تو حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ تشریف لے گئے مخالفین نے وہاں ایک کتاب پیش کی‘ اس کتاب کا ترجمہ مسلمانوں کے عقیدے کیخلاف بنتا تھا‘ وہ کتاب بھی مسلمانوں کے اکابرین کی تھی‘ جج بڑا حیران ہوا اس نے کہا کہ دیکھو یہ تمہاری اپنی کتاب پیش کر رہے ہیں جو تمہاری ہی جڑیں کاٹ رہی ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ذرا وہ کتاب مجھے دکھائی جائے۔



















































