ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

ادنیٰ سی کوشش

datetime 20  فروری‬‮  2017 |

سمندر کنارے ایک شخص واک کرنے جاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کوئی شخص نیچے جھکتا اور کوئی چیز اٹھاتا ہے اور سمندر میں پھینک دیتا ہے ذرا قریب جاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے ہزاروں مچھلیاں کنارے پہ پڑی تڑپ رہی ہیں شاید کسی تازہ موج نے انہیں سمندر سے نکال کر ریت پہ لاپھینکا تھااور وہ شخص ان مچھلیوں کو واپس سمندر میں پھینکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسے اس شخص کی بیوقوفی پر ہنسی آئی اور ہنستے ہوئے اسے کہا اس طرح کیا فرق پڑنا ہزاروں مچھلیاں ہیں کتنی بچا پاؤ گے؟وہ شخص نیچے جھکا ایک تڑپتی مچھلی کو اٹھایا اور سمندر میں اچھال دیا پھر سکون سے دوسرے شخص کو کہا اسے فرق پڑا۔ہماری چھوٹی سی کاوش سے بھلے مجموعی حالات تبدیل نہ ہوں مگر کسی ایک کے لیے وہ فائدے مند ہو سکتی ہے۔اپنی بساط کے مطابق اچھائی کرتے رہیں اس فکر میں مبتلا نہ ہوں کہ آپ کی اس کوشش سے معاشرے میں کتنی تبدیلی آئی۔
ایک صاحب نے اپنے گھر کی اوپر والی منزل ایک فوجی جوان کو کرائے پر دی، اس گھر کی چھت لکڑی کی تھی اس وجہ سے فوجی کے چلنے پھرنے کی آوازوں سے انکا ذہنی سکون درہم برہم ہونے لگا جس پر انہوں نے اس سے شکائت کی،فوجی جوان نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ وہ سارا دن باہر رہے گا اور صرف رات کو سونے کیلئے گھر آیا کرے گا تاکہ آپ لوگوں کے آرام اور سکون میں خلل نہ پڑے،اس معاہدے کے بعد کچھ یوں ہوا کہ فوجی صاحب رات کو دیر سے آتے اور بستر پر بیٹھ کر اپنے بھاری بھرکم بوٹ اتار کر دور کونے میں پھینک دیتے، جسکی وجہ سے سوئے ہوئے مالک مکان کی آنکھ کھل جاتی اور پھر کافی دیر خوار ہونے کے بعد دوبارہ نیند آیا کرتی۔ایک مرتبہ پھر ان فوجی صاحب سے مذاکرات ہوئے تو انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ وہ بوٹ آرام سے رکھا کریں گے، چنانچہ اس رات جب فوجی جوان واپس گھر آیا تو ایک جوتا اتار کر زور سے کونے میں پھینک دیا،، مگر فوراً معاہدہ یاد آیا کہ جوتے تو آرام کے ساتھ رکھنے تھے’’چنانچہ دوسرا جوتا آرام سے رکھ دیا‘‘۔اگلے دن جب وہ ڈیوٹی پر جانے کے لئے تیار ہوا تو انکے مالک مکان پوری فیملی سمیت ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔فوجی نے دریافت کیا کہ بزرگوار میں نے ایک جوتا غلطی سے فرش پر پھینک دیا تھا مگر مجھے فوری طور پر یاد آگیا اور دوسرا جوتا میں نے معاہدے کے مطابق آرام سے رکھ دیا تھا۔اس پر مالک مکان نے کہا’’جناب آپ کی بڑی مہربانی‘‘! مگر ہم سب لوگ ساری رات دوسرے جوتے کی آواز سننے کو ترس گئے تاکہ پر سکون ہو کر سو سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…