جب چھوٹے تھے تو گاؤں میں رہا کرتے تھے۔ ایک شوق تھا کہ ہم بھی شہر میں رہیں،ہمارا بھی ایک اپنا گھر ہو اور پینٹ شرٹ والی یونیفارم پہین کر ہم بھی سکول جائیں۔شاید اس شوق کی بڑی وجہ تھی ٹی وی کیونکہ ٹی وی میں جب شہر کو دیکھتے،لڑکوں کو بڑے بڑے سکول جاتے دیکھ کر بہت من کرتا تھا اور کاش کا لفظ دماغ میں گھومتا تھا کہ کاش ہم بھی ان سکولوں میں پڑسکتے ،ایسے گھروں میں رہتے۔
ہوشیار لوگ کہتے ہیں نہ کہ جو چیز آپ کے پاس ہو اس کی قدر نہیں ہوتی اور اس بات کا مجھے احساس اس وقت ہوا جب ہم لوگ گاؤں سے شہر شفٹ ہوگئے اپنے پورے فیملی کے ساتھ اور یہاں شہر آکے بڑے سکول میں داخل بھی ہوگئی پر وہ مزہ نہیں ہے شہر میں جو مزہ گاؤں میں ہوا کرتا تھا۔ آج بھی اپنے بچپن کے بارے میں سوچتا ہوں تو آنسو نکل آتے ہیں۔ گاؤں میں چھوٹے بچے حجرے میں سویا کرتے تھے مطلب جن کی شادی نہ ہوئی ہو اور جو شادی شدہ ہوتے وہ رات نو بجے کی نیوز سن کر اپنے اپنے گھر جایا کرتے تھے۔وہ تین تین کا ایک ہی بستر میں سونا،پھر اپنے ساتھ ہوئے دن بھر کے واقعات کا ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنا اگر کسی کے ساتھ کچھ نیا واقعہ پیش آیا ہو یا کوئی ایسی بات ہوئی ہو جسے سن کر ہنسی کو روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجاتا تھا۔اگر کسی کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہو تو پھر ہر ایک ایک کا سر تکیے سے ایسے اٹھتا جسے کھڑکی سے سر باہر نکال کر لوگ ادھر ادھر دیکھتے ہیں،اور پھر انتظار کرتے کہ کوئی ایک زور زور سے ہنسے اور جیسے ہی ایک کی آواز آتی ہنسنے کی تو ایسا لگتا کہ اب اجازت مل گئی ہو کہ اب سب ہنس لیں اور سب ہنسناشروع ہو جاتے ۔پھر سوتے وقت ایک دوسرے کو بتا کہ سونا کہ جو صبح سب سے پہلے اٹھے گا اس کے زمے ہوگا کہ وہ پھر سب کو اٹھائیگا۔جیسے ہی ایک نیند سے جاگ جاتا ایسا لگتا کہ اس کے تو مزے ہوگئے۔جاگنا ہی تھا اور پھر تکیہ اٹھا اٹھا کر دوسروں کو مارنا اور جیسے جیسے جو جاگتا وہ بھی شروع ہوجاتا تکیہ مارنے جو سوئے ہوتے تھے ان پر۔
سب کے جاگنے کے بعد پھر ایک ایک باتھ روم جاتا اور جو باقی ہوتے تھے وہ پھر اپنے شغل میں لگے رہتے،پھر سب اکٹھے نکلتے حجرے سے، اور اپنے اپنے گھروں کو جا کر اپنی اپنی بکریا ں لے کر آتے اور انہیں جنگل میں چھوڑ نے جاتے چرنے کیلئے۔ پھر وہاں سے آکے ناشتہ کر کے سکول کیلے نکلتے اور اگر خدانخواستہ ایک تھوڑا لیٹ ہوگیا اور باقی اس کے دروازے تک پہنچ گئے اسے بلاتے تو اگر وہ شلوار پہن رہا ہوتا تو ایک ہاتھ میں ناڑہ اور دوسرے ہاتھ میں بیگ لے کہ پہنچ جاتا ،
اگر ناشتہ کر رہا ہوتا تو منہ میں نوالہ،ہاتھ میں پراٹھے کا ایک ٹکڑا لے کہ گھر سے باہر نکل آتا، اگر جوتے پہن رہا ہوتا تو پھر ایک جوتا پہنا ہوا اور دوسرے میں آدھا پیر ڈال کر پہنچ جاتا۔ ناڑہ باندھنا،پراٹھے کے اس ٹکڑے کو کھانا، جوتے پہننا اور ان کے تسمے باندھنا سب راستے میں ہوتا تھا۔ بیگ میں ایک دو دو کیلے بھی رکھی ہوتے تھے ہر ایک کے پاس۔جب سکول کی چھوٹی ہوجاتی سب ایک دوسرے کا گیٹ کے باہر انتظار کرتے اور سب اکٹھے روانہ ہو جاتے۔ایک گھنٹے کا فاصلہ ہوا کرتا تھا
ہمارے سکول سے ہمارے گھر تک۔آدھے گھنٹے کے فاصلے پر قراقرم روڈ آتا تھا وہاں ایک ہوٹل ہوا کرتا ہے جہاں سارے ٹرک والے اپنی ٹرک روک کر کھانا کھانے بیٹھ جاتے۔اتفاق سے ہم بھی اسی وقت وہاں پہنچ جاتے جس وقت وہ کھانہ کھانے کیلے اپنی ٹرک کو روکا کرتے تھے۔بس پھر ہونا کیا تھا ایک دو ہوٹل پر نظر رکھتے کہ جیسے ہی ٹرک والا آجائے ہوٹل سے باہر تو دوسروں کو انفارم کر سکیں ۔
ان ایک دو کے علاوہ باقی سب اپنے بیگ سے وہ کیلے نکال لیتے اور ٹرک کے پیچھے لگے ہوے کڑے نکالنے لگ جاتے۔ٹرک والے بھی بہت زدی ہوتے تھے ایک دفعہ ایک نے تو ہمارے پیچھے دس سے پندرہ منٹ دوڑ لگائی اور پھر واپس ہوگیا،وہ بھی اس وجہ سے واپس ہوا کہ کہیں دوسرے لڑکے بچے ہوئے کڑے نہ نکال لیں۔ جو کڑے نکال لیتے تھے وہ گھر پہنچ کر کھانہ کھانے سے پہلے اپنی ان گاڑیوں پر لگایا کرتے تھے
جو سریے کی بنی ہوئی ہوتی۔ پھر کھانا کھا کر ایک دوسرے کو آواز دیتے،ایک کو بیٹ لانے کا کہا تو دوسرے کو بال کا کہہ دیا اور روانہ ہو جاتے اپنے ایک چھوٹے سے گراؤنڈ کی طرف بعض تو اتنے شوقین ہوتے کہ وہ کھڑے کھڑے کھانہ کھاتے اور بِنا یونفارم تبدیل کئے کھیلنے نکل جاتے۔
پھر کھیلتے ہوئے ایک دوسرے کیساتھ لڑنا کبھی کبھی تو ایک دوسرے کی سر پھوڑنے کی بھی نوبت آجاتی اور پھر جس کے سر سے خون نکلتا ہوتا اس کو پھر پانچ لڑکے بھی قابو نہیں کر سکتے۔ لڑائی بھی چھوٹی سی بات پر ہوتی تھی مثلاً کہ ایک کا کہنا کہ آپ رن آوٹ ہوگئے تو اگر دوسرے کے کے مطابق رن آؤٹ نہیں ہے تو بس پھر لڑائی شروع ہوجاتی،اسی طرح کیچ پکرنے پر لڑائی ہو جانا کیوں کہ وہاں کوئی کیمرہ تو نہیں لگا ہوتا جو بتادے کہ کیچ ہے یا نہیں۔
آدھے گھنٹے بعد پھر سے ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے لگ جاتے بنا کسی کے صلح کروانے یا منتیں کروانے کے۔ ۔آج اگر لڑائی تو دور کی بات ہے اگر کوئی منہ ماری بھی ہوجائے تو لوگ ایک ایک سال تک بات نہیں کرتے۔ مغرب کی اذان تک اپنا یہ کھیل لگا رہتا اور مغرب کی اذان ہوتے ہی ایک جاتا اور ساری بکریا ں جمع کر کے لے آتا۔ہر ایک کی اپنی اپنی باری ہوتی تھی اور اپنے باری والے دن جا کہ سب بکریا ں لے کے آتا اور انہیں نہر پر لا کر چھوڑتا۔ایک بات شاید میں بتانا بھول گیا کہ ہمارا یہ گراؤنڈ بھی جنگل میں تھا۔
بس پھر بکریا ں آگے اور ہم پیچھے پیچھے گھروں کی طرف روانہ ہوجاتے اور پہنچتے ہی کھانے پر ایسے ٹپک پڑتے جیسے پروانہ شمع پر ٹپکتا ہے۔ آج اللہ کے فضل سے ہر سہولت موجود ہے پر اس جیسا مزہ اب نہیں آتا۔ آپ لوگوں کا پچپن کیسا گزرا دوستوں یقین ہے ہمارا والا معاملہ آپ لوگوں کے ساتھ نہیں ہوا ہوگا آپکے بچپن میں۔لیکن سچ بتاؤں تو میں اپنے اس بچپن پر بہت زیاہ خوش تھا اور ابھی بھی اگر یاد کروں تو آنکھے نم ہوجاتی ہیں من کرتا ہے لوٹ چلو اپنے بچپن میں پر کاش کہ ایسا ہوتا۔



















































