’’محبت بھرا گھرانا‘‘یہ سنتے ہی ایک ایسے گھر کا منظر ذہن کے پردے پر ابھرتا ہے جس کے مکین(رہنے والے) ایک دوسرے کی عزت کا پاس اور ادب و احترام کی فضا قائم رکھنے والے ہوں۔درحقیقت ایک دوسرے کی عزت واحترام کرناایساوصف ہے جس کی موجودگی میں کسی گھر کی بنیادیں عرصہ دراز تک مضبوط رہتی ہیں۔
جبکہ عزت کی پامالی ان بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیتی ہے اورباہمی رنجشوں کا سبب بنتی ہے لہٰذا ’’عزت دیجئے عزت لیجئے ‘‘کے زریں اصول پر کاربند رہنا چاہیے۔
بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت:
حضورﷺنے اپنے اَقوال و اَفعال کے ذریعے عزت جیسی عظیم خوبی کو اپنانے پر اْبھارا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰ ﷺہے:
اے اَنس ! بڑوں کا ادب و احترام اور تعظیم وتوقیر کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو، تم جنت میں میری رفاقت پالو گے۔(شعب الایمان، 7/458)
اور عملی طور پر یوں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب حضورﷺکی خدمت میں حاضر ہوتیں توآپ ﷺکھڑے ہوکراستقبال فرماتے اور جب حضور ﷺان کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ کھڑی ہوجاتیں۔(ابو داود ،4/454)
*والدین کو آتا دیکھ کر تعظیماً کھڑے ہوجائیے۔
*دن میں کم ازکم ایک باروالد کے ہاتھ اور والدہ کے پاؤں چومئے۔
* اْن سے آنکھیں ہر گز نہ ملائیے۔
*دھیمی آواز میں بات کیجئے۔
*ان کی تیکھی باتوں پر صبر کیجئے۔
*بحث کرنے اور الجھنے سے بچئے۔
*ڈانٹ بلکہ مار بھی پڑے تو صبر کیجئے۔
*اْن کاہروہ حکم جو موافق شرع (شریعت کے مطابق) ہو فوراً بجالائیے۔
*ایک دوسرے کو جلی کٹی نہ سنائیے۔
*کڑواتیکھا جواب دینے کے بجائے صبروشکر سے کام لیجئے۔
* غلطی اپنی ہو تو معافی مانگنے میں دیر نہ کیجئے۔
*ایک دوسرے کے والدین اور خاندان پر نکتہ چینی اور انہیں برا بھلا نہ کہئے۔
*کسی کے سامنے اور تنہائی میں بھی ایک دوسرے کی عزت نفس کو مجروح نہ کیجئے۔
*ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کیجئے۔
* جائز تعریف میں کنجوسی نہ کریں بلکہ کشادہ قلبی کے ساتھ تعریف کیجئے۔
بہن بھائیوں میں عزت افزائی کا اصول اس طرح جاری رہے کہ:
* بڑے بہن بھائی سے ماں باپ جیسا برتاؤ رکھئے۔
*چھوٹوں پر شفقت وپیار کا ہاتھ رکھئے۔
*چھوٹے بڑے سب آپس میں آپ جناب سے بات کریں۔
*الغرض گھر کے کسی بھی فرد کے ساتھ ہر اس معاملے سے بچیں جس میں ہَتکِ عزت (یعنی کسی کو رْسوا و بدنام کرنے) کا معمولی سا بھی پہلو نکلتا ہو۔



















































