مرزا قتیل ایک صوفی شاعر تھے۔ ان کے صوفیانہ کلام سے متاثر ہو کر ایک ایرانی شخص انکا غائبانہ معتقدہوگیا وہ شخص مرزا قتیل سے ملاقات کے شوق میں وطن سے چلا، جس وقت وہ مرزا قتیل کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ مرزا داڑھی کا صفایا کررہے تھے۔ایرانی نے متعجب ہوکر انہیں دیکھا اور بولا!آغا ریش می تراشی؟ (جناب آپ داڑھی مونڈ رہے ہیں؟)
مرزا نے جواب دیا۔ بلے مو می تراشم ‘ ولے دک کسے نمی خراشم (ہاں ! بال تراش رھاہوں کسی کا دل نہیں چھیل رہا)
گویا ان کادل بدست آور کہ حج اکبر است کی طرف صوفیانہ اشارہ تھا کہ اپنے متعلق انسان جو چاہے کرے مگر مخلوق خدا کا دل نہ دکھائے۔ایرانی ان کا جواب سن کر بے ساختہ بولا..
آرے دل رسول اللہ می خراشی (کسی کا دل کیا چھیلنا’ تم تو داڑھی منڈوا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل چھیل رہے ہو)
یہ بات سن کر مرزا قتیل تڑپ اٹھے اور وجد میں آ کرہوش و حواس کھو دیئے جب طبیعت کچھ سنبھلی تو ایرانی کا شکریہ ادا کیا کہ تونے تو میری آنکھیں کھول کر رکھ دیں۔ اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہر روز ورنہ دوسرے تیسرے دن داڑھی منڈوا کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل چھیلتے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہوتا الٹاہم ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو چہرے پر سنت نبوی سجا لیتے ہیں۔ داڑھی منڈوانے والے اپنی اس حرکت کو معمولی چیز سمجھتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ کس کے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اورکس کی صورت سے عملاً بیزارہو رہے ہیں۔یاد رکھیے کہ داڑھی رکھنا ہر مسلمان مرد پر واجب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے داڑھی منڈوانے والوں سے اپنی زندگی میں بھی نفرت سے چہرہ مبارک پھیر لیا تھا اور عین ممکن ہے کہ روز قیامت بھی وہ ایسوں سے منہ موڑ لیں جو داڑھی رکھنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔
اللہ ہم سب کو توفیق اور ہمت دے کہ کفار کے طریق پر چلنے کے بجائے انبیاء و صالحین کی سنت پر چلتے ہوئے اپنے چہروں کو داڑھی جیسی سنت نبوی سے سجا لیں۔



















































