حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ دارالعلوم دیوبند میں پڑھاتے تھے اور مشاہرہ اتنا تھا کہ مشکل سے گزارا ہوتا تھا۔ جو کچھ ملتا گھر کی ضروریات میں لگ جاتا اسی وجہ سے حج بھی نہ کر سکے مگر دل میں تمنا بہت تھی‘ حتیٰ کہ کتابوں میں لکھا ہے کہ جب حج کے دن شروع ہوتے تھے تو آپ کو گھر کے اندر چین نہیں آتا تھا‘ کبھی ادھر چلے جاتے‘ کبھی ادھر چلے جاتے حتیٰ کہ دسترخوان پر کھانا کھاتے ہوئے بھی جب خیال آ جاتا تو کہتے
معلوم نہیں عشاق کیا کر رہے ہوں گے حج پر جانے والوں کو عشاق کہتے تھے۔ یہ خیال آتے ہی کھانا چھوڑ دیتے اور آہیں بھرنے لگتے اور اور کہتے کاش کوئی دن آئے کہ حسین احمد کو بھی اس جگہ کی زیارت نصیب ہو جائے۔
ایک دفعہ سوئے ہوئے تھے اور آنکھ کھل گئی‘ اٹھ بیٹھے ‘ پریشانی سے نیند نہ آئی اسی حالت میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر عرض کیا‘ اے اللہ! معلوم نہیں تیرے عاشق کیا کر رہے ہوں گے‘ کاش کہ حسین احمد کو بھی ان میں شمار فرما لیتا‘ ذوالحجہ کے دس دن آپ کو یہاں آرام نہیں آتا تھا‘ دعائیں مانگتے تھے۔ کراہتے رہتے تھے حتیٰ کہ اللہ رب العزت نے آپ کی اس محبت کو قبول فرما لیا اور آپ کیلئے حرم شریف کے دروازے کھولے اور اٹھارہ سال تک حضوؐر کے پاس بیٹھ کر حدیث کا درس دیتے رہے۔ آپ حدیث مبارکہ کا درس دیتے وقت اس انداز سے بیٹھتے تھے کہ مواجہ شریف بالکل سامنے ہوتا تھا۔ جب آپ تعلیم سے فارغ ہو جاتے تو اکثر لوگوں نے دیکھا کہ رات کے اندھیرے میں عشاء کے بعد یا تہجد سے پہلے اپنی داڑھی مبارک سے حضوؐر کے روضہ اقدس کے قریب کی جگہ کو صاف کر رہے ہوتے تھے‘ سبحان اللہ‘ اللہ ہمیں بھی ایسا عشق اور ایسا ادب نصیب فرمائے ۔



















































