حضور پاکﷺ ایک دفعہ مدینہ طیبہ سے باہر تشریف لے جا رہے تھے‘ ایک یہودی نے ہرنی پکڑی ہوئی تھی‘ آپؐ جب قریب سے گزرے تو اس ہرنی نے آپؐ سے کہا! اے اللہ کے نبیؐ مجھے اس نے پکڑ لیا ہے اس سامنے والے پہاڑ میں میرا بچہ ہے اور اس کو دودھ پلانے کا وقت ہو گیا ہے مجھے دیر ہو رہی ہے میری ممتا جوش مار رہی ہے کہ میں اسے دودھ پلا لوں آپ مجھے تھوڑی دیر کیلئے آزاد کرا دیجئے۔
رسول اللہؐ نے اس کی بات سنی تو یہودی سے کہا تھوڑی دیر کیلئے اسے آزاد کر دو‘ یہ دودھ پلا کر واپس آ جائے گی۔ اس نے کہا کہ بڑی مشکل سے اسے پکڑا ہے‘ کیا آپؐ اس کی ذمہ داری لیتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا کہ میں اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں چنانچہ ہرنی کو چھوڑ دیا گیا‘ وہ اسی وقت چھلانگیں مارتی ہوئی پہاڑی کی طرف گئی آپؐ بھی وہیں تھے کہ وہ دوبارہ بھاگتی ہوئی واپس آگئی‘ یہودی ہرنی کو اس اطاعت کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ چنانچہ اس نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔
جانوروں کیلئے رحمت
نبی اکرمﷺ کی رحمت سے جانوروں نے بھی رحمت پائی‘ ایک مرتبہ ایک باغ میں تشریف لے گئے تو ایک اونٹ بلبلاتا ہوا آپؐ کے قدموں میں آیا‘ آپؐ نے اس کے مالک کو بلا کر فرمایا کہ یہ بے زبان جانور ہے تمہیں چاہئے کہ اس کے ساتھ نرمی برتو‘ یہ شکوہ کر رہا ہے کہ تم اس سے زیادہ کام لیتے ہو اور اسے چارہ تھوڑا دیتے ہو۔ سبحان اللہ! جانور بھی آپؐ کی خدمت میں آ کر اپنی تکالیف بیان کرتے تھے۔



















































