ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ حج کیلئے سفر پر چلے تو راستہ میں انہوں نے اپنی سواری کو ایک جگہ پر روکا‘ نیچے اترے اور ویرانے میں ایک طرف کو اس طرح گئے جیسے کوئی آدمی قضائے حاجت کیلئے جاتا ہے پھر ایک جگہ پر بیٹھ گئے یوں لگتا تھا فراغت حاصل کرنے کے لئے بیٹھے ہیں مگر وہ فارغ نہیں ہوئے بلکہ ایسے ہی واپس آ گئے اور اونٹ پر بیٹھ کر چل پڑے۔
ساتھیوں نے پوچھا۔ حضرت آپ کے اس عمل کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑا ہے حالانکہ آپ کو فراغت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں تھی‘ وہ فرمانے لگے کہ اس لئے نہیں رکا تھا کہ مجھے ضرورت تھی‘ بلکہ اصل میں بات یہ ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی علیہ السلام کے ساتھ اسی راستے سے سفر کیا تھا اسی جگہ پر میرے محبوب علیہ السلام رکے تھے اور آپؐ نے اس جگہ پر قضائے حاجت سے فراغت حاصل کی تھی میرا جی چاہا کہ میں بھی محبوبؐ کے اس عمل کے مطابق اپنا عمل کروں اس سے اندازہ لگائیے کہ وہ نبی علیہ السلام کی اداؤں کے کتنے محافظ تھے وہ جو کچھ محبوبؐ کی زبان سے سنتے تھے یا ان کو کرتے ہوئے دیکھتے تھے اس کے مطابق عمل کرتے تھے۔
فرمان نبویﷺ کا لحاظ
مسجد نبویؐ کا ایک دروازہ تھا‘ جہاں سے اکثر عورتیں آیا کرتی تھیں اور جب عورتیں نہیں ہوتی تھیں تو کبھی کبھی مرد بھی اس دروازے سے آ جایا کرتے تھے‘ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے فرمایا‘ کتنا اچھا ہوتا کہ اس دروازے کو عورتوں کیلئے چھوڑ دیا جاتا‘ یہ سن کر مردوں نے اس دروازے سے آنا چھوڑ دیا حتیٰ کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ ان الفاظ کو سننے کے بعد پوری زندگی میں کبھی بھی اس دروازے سے مسجد نبوی ﷺ میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ ان کا ایک ایک کام نبی علیہ السلام کی اداؤں کا مظہر ہوا کرتا تھا‘ اللہ رب العزت نے ان کو نبی علیہ السلام کا ایسا عشق عطا فرمایا تھا کہ ان کو نبی علیہ السلام کی ہر ہر بات یاد رہتی تھی۔ انہوں نے اپنے اپنے دماغوں میں بھی اس علم کو یاد رکھا اور اپنے جسم کے اعضاء پر بھی اس علم پر عمل کے ذریعے سے یادیں تازہ رکھیں۔



















































