ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

مفتی محمد حسن رحمتہ اللہ علیہ حکیم الامت رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت میں

datetime 6  فروری‬‮  2017 |

جامعہ اشرفیہ لاہور کے بانی حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ امرتسری‘ حضرت تھانویؒ کے الجل خلفاء میں سے تھے‘ انہوں نے جب دارالعلوم سے پڑھا تووہیں پڑھانے بھی لگ گئے‘ حتیٰ کہ حدیث کے اسباق مل گئے اب جو استاد دارالعلوم دیوبند میں حدیث کے استاد ہوں ان کا علمی مقام کیا ہو گا‘ ان کے دل میں بڑی چاہت تھی کہ حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت ہو جاؤں اس سلسلہ میں کئی مرتبہ خطوط بھی لکھے‘

حضرت رحمتہ اللہ علیہ ہمیشہ جواب میں فرماتے کہ مفتی صاحب! بیعت میں اصل مقصد تو محبت و عقیدت ہے وہ آپ کو پہلے ہی حاصل ہے تو بیعت کرنا کوئی ضروری نہیں ہے‘ چنانچہ ٹال دیتے‘ پھر خط لکھتے‘ پھر ٹال دیتے ادھر سے اصرار ادھر سے انکار‘ مفتی صاحب کے دل میں پھر ولولہ اٹھتا کہ میں بیعت کی نسبت حاصل کروں‘ اگر کبھی اظہار کرتے تو حضرت یہی جواب اشراد فرماتے‘ مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں تھانہ بھون حاضر ہوا کہ میں نے حضرت رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے بغیر واپس نہیں آنا میں تو ان کا غلام بننا چاہتا تھا‘ میں چاہتا تھا کہ روز قیامت حضرت رحمتہ اللہ علیہ کے خدام اور غلاموں کی فہرست میں میرا نام شامل کر لیاجائے۔ یہ سوچ کر میں وہاں پہنچا اور حضرت کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت! آپ مجھے بیعت فرما لیں‘ حضرت نے وہی پرانا جواب دیا کہ مفتی صاحب! بیعت کوئی ضروری تو نہیں ہے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا‘ حضرت اقدس تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی دیکھاکہ مفتی صاحب ڈٹ گئے ہیں تو حضرت فرمانے لگے‘ مفتی صاحب! تین شرائط ہیں بیعت ہونے کیلئے آپ کو وہ تین شرائط پوری کرنا پڑیں گی۔
آج کے دور میں اگر کسی سے کہا جائے کہ بیعت ہونے کیلئے یہ شرائط ہیں تو وہ مرید کہے گا کہ جی یہ تو بڑے متکبر پیر ہیں بیعت ہی نہیں کرتے‘ دیکھو جی ہم گھر سے بیعت ہونے کیلئے چل کر آئے ہیں اور پیر صاحب نے آگے بیعت ہی نہ کیا‘ یہ کبھی نہ سوچیں گے کہ ہماری تنبیہ ہو گی‘ ہمارا علاج ہو گا‘ ہمارے نفس کو دوا پلائی جائے گی‘ نہیں بلکہ آج اول تو پیرووں کے پاس آتے ہی نہیں اور جب کبھی آتے ہیں تو پہلے آ کر حالات بتاتے ہیں اور پھر ان کے جوابات کا مشورہ بھی دیتے ہیں کہ گویا یوں کہہ رہے ہیں کہ حضرت میںآپ کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ مجھے یہ مشورہ نہ دیں آج کل کے مریدین کا یہ حال ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ مفتی صاحب! آپ کو تین شرائط پوری کرنا پڑیں گی‘ انہوں نے عرض کیا‘ حضرت! میں پوری کرنے کیلئے تیار ہوں۔ فرمایا! پہلی شرط تو یہ ہے کہ آپ پنجابی زبان بولتے ہیں عام طور پر اس زبان کے بولنے سے حروف کے مخارج بگڑ جاتے ہیں جب تک سیکھے نہ جائیں لہٰذا آپ کسی اچھے قاری سے تجوید قرأت کا فن سیکھیں حتیٰ کہ مسنون قرأت کے ساتھ آپ پانچوں نمازیں پڑھا سکیں میں نے عرض کیا حضرت! میں حاضر ہوں۔

دوسری شرط کی تفصیل بتاتے ہوئے فرمایا کہ مفتی صاحب! آپ نے فلاں فلاں کتابیں ایک غیر مقلد عالم سے پڑھی ہیں اور غیر مقلدیت کے جراثیم آسانی کے ساتھ ذہن سے نہیں نکلتے‘ اب آپ یہ کتابیں دارالعلوم میں طلباء کے ساتھ بیٹھ کر اساتذہ سے پڑھیں تاکہ صحیح العقیدہ اساتذہ سے پڑھنے کی وجہ سے غیر مقلدیت کے اثرات زائل ہو جائیں۔ میں نے عرض کیا‘ حضرت! مجھے یہ بھی منظور ہے پھر فرمایا! تیسری شرط یہ ہے کہ مجھے اجازت دیں کہ میں پردے میں آپ کی اہلیہ کو قسم دے کر آپ کی نجی زندگی کے بارے میں کچھ باتیں پوچھ سکوں‘ میں نے عرض کیا‘ حضرت مجھے یہ بھی منظور ہے۔
جب یہ بات نقل کی تو حضرت فرمانے لگے کہ حضرت نے تو تین شرطیں لگائی تھیں اگر چوتھی شرط یہ بھی لگا دیتے کہ روزانہ دوپہر تک تم نے بیت الخلاء کی بدبودار اور گندی جگہ پر بیٹھنا ہے تو میں اس شرط کو بھی قبول کر لیتا‘ مگر کیونکہ میں اپنے اندر کی بدبو سے چھٹکارا پانا چاہتا تھا‘ جب تمام شرائط پوری کر کے دکھا دیں تو اللہ رب العزت نے ان کیلئے نسبت کے راستے کو ہموار فرما دیا۔ اللہ اکبر

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…