ابو محذورہ ایک صحابی ہیں لڑکپن کی عمر ہے اسلام قبول نہیں‘ کچھ اور بچوں کے ساتھ بیٹھے ہنسی مذاق کر رہے ہیں اور حضرت بلالؓ جس طرح اذان دیتے تھے اس کی نقل اتار رہے ہیں‘ ادھر رسول اللہﷺ گزرے‘ آپؐ نے بھی دیکھ لیا‘ سن لیا‘ فرمایا: ابو محذورہ! بات سنو‘ قریب آئے‘ گھبرا گئے‘۔ حضوؐر نے فرمایا ڈر نہیں جیسے اذان دے رہا تھا ویسے ہی اذان دے چنانچہ اس نے ویسے ہی اذان دینا شروع کر دی‘
نقل اتارنا شروع کر دی۔ پڑھتے پڑھتے پڑھا اشھد ان محمد رسول اللہ۔ اذان کے بعد حضوؐر نے فرمایا! اب جاؤ کہنے لگے اب ابومحذورہ کہاں جائے گا؟ جہاںآپ جائیں گے وہاں ابومحذورہ جائے گا۔ نقل اتار رہے تھے میرے آقاﷺ نے اذان سن لی تو نقل کو اصل بنا دیا انہی محذورہ کو اللہ کے محبوبﷺ نے حرم شریف کی کنجی دے کر موذن بنا دیا۔ ساٹھ سال تک حرم شریف میں اذان دیتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری نقل کو اصل بنا دے اور ہماری صورت کو حقیقت میں تبدیل کر دے۔ آمین۔
دست بکار دل بیار
اگر کوئی صاحب یہ پوچھیں کہ اللہ والے اللہ تعالیٰ کی یاد سے ایک لمحہ کیلئے بھی غافل نہیں ہوتے اس کی وضاحت کریں تو اس کے جواب کیلئے ایک مثال عرض ہے۔
فرض کریں آپ کے بھائی کو گارڈ کی خالی آسامی کیلئے انٹرویو کیلئے بلایا جائے تو جیسے ہی پتہ چلے گا سب گھر والے بیٹھ کر مشورہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب آپ سے یہ پوچھیں تو یہ جواب دینا‘ جب یہ پوچھیں تو یہ کہنا‘ جب انٹرویو دینے کیلئے جا رہا ہو گا تو آپ اسے سمجھائیں گے کہ ذرا خیال رکھنا‘ وقت پہ پہنچنا‘ اب وہ تو انٹرویو دینے کیلئے چلا جائے گا لیکن آپ اپنے دفتر بھی جا رہے ہوں گے اور اپنے بھائی کیلئے دعائیں بھی کر رہے ہوں گے کہ میرا بھائی ٹھیک ٹھیک جواب دے‘ یوں آپ کا دل گارڈ کے دفتر میں اٹکا ہوا ہو گا‘ آپ دفتر میں پہنچ جائیں گے مگر دل میں یہی خیال چھایا رہے گا بالآخر آپ تو سوچیں گے کہ اب تو ٹائم ہو گیا ہے میرا بھائی گھر پہنچ گیا ہو گا پھر آپ فون کریں گے آپ اپنی امی سے سب سے پہلے یہی پوچھیں گے کہ بھائی کا کیا بنا ہے؟ اگر آپ آٹھ گھنٹے اپنے بھائی کی سوچ میں گزار سکتے ہیں تو اللہ والوں کے دل بھی ہر وقت اللہ کی یاد میں رہ سکتے ہیں وہ دنیا کے کام کاج بھی کرتے ہیں‘ کھاتے پیتے بھی ہیں‘ سوتے جاگتے بھی ہیں‘ چلتے پھرتے بھی ہیں مگر ان کا دل اللہ کی یاد سے ایک لمحہ کیلئے غافل نہیں رہتا۔



















































