ایک صاحب شہزادی کی محبت میں گرفتار ہوئے۔ خود بھی حسین و جمیل تھے اور بادشاہ کے محل میں کام کرتے تھے‘ کسی نہ کسی ذریعے سے اس نے شہزادی تک اپنا پیغام پہنچا دیا۔ شہزادی نے بھی اس کے حسن و جمال کے تذکرے سن رکھے تھے‘ وہ بھی دل دے بیٹھی دونوں کسی واسطے سے ایک دوسرے کو پیغام بھیجتے تھے مگر محل میں ملاقات کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی بالآخر شہزادی کو ایک تجویز سوجھی
اس نے اپنے عاشق نامراد کو پیغام بھیجا کہ بادشاہ سلامت کو نیک لوگوں سے بڑی عقیدت ہے۔ اگر آپ نوکری چھوڑ کر شہر سے باہر ایک ڈیرہ لگائیں اور کچھ عرصہ نیکی و عبادت میں مشغول رہیں حتیٰ کہ آپ کی شہرت ہو جائے تو پھر میں آپ سے ملنے آ جایا کروں گی۔ کوئی کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو گی۔ عاشق نامراد نے محل کی نوکری کو خیرباد کہا اور شہر کے باہر ایک جگہ ڈیرہ لگایا۔ وضع قطع سنت کے مطابق اختیار کر لی۔ دن رات ذکر و فکر میں مشغول ہو گیا۔ کچھ عرصے کے بعد لوگوں میں اس کی نیکی کا خوب چرچا ہوا۔ شہزادی تو موقع کی تلاش میں تھی۔ اس نے بادشاہ سے اجازت لی اور دعائیں لینے کے بہانے سے اس عاشق نامراد سے ملنے آئی۔ ڈیرے پہنچ کر اس نے سب لوگوں کو باہر کھڑا کر دیا اور خود کیلی اندر آ گئی۔ عاشق نامراد نے اسے دیکھا تو کہا بی بی باہر چلی جاؤ۔ آپ بغیر اجازت کیسے یہاں آ گئی۔ شہزادی نے یاد دلایا کہ میں وہی ہوں جس کے حسن و جمال پر آپ فریفتہ تھے۔ تنہائیوں میں بیٹھ کر آہیں بھرتے تھے‘ ملاقات کی خاطر تڑپتے تھے آج میں آپ سے ملنے آئی ہوں نتہائی ہے‘ موقع غنیمت سمجھو‘ اس نے منہ پھیر کر کہا بی بی وہ وقت چلا گیا۔ میں نے تمہاری ملاقات کیلئے نیکی کی روش کو اختیار کیا تھا مگر اب میرا دل شہنشاہ حقیقی کی محبت میں لبریز ہو چکا ہے اب تمہاری طرف دیکھنا بھی مجھے گوارا نہیں۔



















































