ہمارے ایک دوست نے واقعہ سنایا کہ ایک آدمی انڈیا سے ہجرت کر کے پاکستان آیا‘ اس کے کئی رشتہ دار تھے‘ مگر سب ادھر ادھر بکھر گئے‘ اس کا ماموں بھی آیا تھا وہ بھی پریشانی کے عالم میں کہیں گم ہو گیا‘ ایک دوسرے کو نہ مل سکے۔ اس آدمی نے محنت کی اللہ نے اس کو خوب مال پیسے والا بنا دیا۔ کئی سال گزر چکے تھے اس نے سوچا کہ میں اپنی کوٹھی بنا لوں‘ اپنی کوٹھی بنانے لگ گیا‘
اسی دوران ایک بوڑھا آدمی اس کے پاس آیا کہنے لگا بیٹا میں قسمت کا مارا ہوں کوئی میرا عزیز رشتہ دار نہیں ہیں تیرے یہاں چوکیداری کروں گا‘ تو مجھے کچھ کھانے کیلئے دے دینا‘ غریب پروری بھی ہو گی‘ اس نے سوچا چلو ٹھیک ہے دن رات یہیں پڑا رہے گا۔ میرا فائدہ ہے اس نے کہا بوڑھے میاں آپ ادھر بیٹھ جایا کرو‘ میں آپ کو اتنے پیسے دوں گا وہ بوڑھا آدمی کام کرنے لگ گیا‘ اب وہ بوڑھا آدمی کبھی صحت کبھی بیماری کبھی تھکاوٹ کبھی کچھ اور کبھی کچھ۔ جب اسے کام میں دیر ہوجائے تو نوجوان اس پر برسنے لگ جائے کہ ایسا ہے تو ویسا ہے‘ وہ بوڑھا بیچارہ رو پڑے یہ آدمی پھر کسی غلطی پر ڈانٹتے تو وہ بوڑھا آدمی پھر رو پڑتا۔ ایک دن اس نوجوان نے اتنی گالیاں دیں کہ وہ بوڑھا آدمی کہنے لگا کہ بیٹا رزق دینے والا تو اللہ ہے تیرا دل خوش نہیں تو میں کہیں او رچلا جاتا ہوں۔ قسمت نے مجھے ایسا بنا دیا‘ ورنہ پیچھے تو میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ آیا تھا‘ معلوم نہیں وہ کہاں چلے گئے‘ جب اس نے یہ بات کی تو اس نوجوان نے پوچھا‘ بابا آپ کے کوئی رشتہ دار تھے؟ بوڑھے نے کہانی سنا دی‘ اس کہانی کو سننے کے بعد اس آدمی کوپتہ چلا کہ یہ میرے وہی گمشدہ ماموں ہیں جن کی یاد میں امی تڑپتی رہیں اب پاؤں پکڑ لئے اور کہنے لگا کہ معاف کر دینا ماموں مجھے معاف کر دینا‘ مجھ سے غلطی ہوئی‘ مجھ سے کوتاہی ہوئی یہ ساری کوٹھی آپ کی ہے جہاں چاہیں تشریف لے جائیں‘ اس نے کہا ناں بیٹا مجھے اپنی اوقات کا پتہ چل گیا۔ نوجوان کو ایک دوسرے سے واقفیت نہیں تھی‘ برتاؤ کچھ اور تھا جب اس کا احساس ہو گیا اب برتاؤ کچھ اور ہے اب قدموں میں پڑ رہا ہے جیسے پہلے ٹھوکریں لگا رہا تھا اب اس کے قدموں میں پڑ رہا ہے۔ یہی انسان کا حال ہے کہ جب تک اسے اللہ رب العزت کی معرفت نصیب نہیں ہوتی جانور کی سی زندگی گزارتا ہے اور جب کسی اللہ والے کا ہاتھ لگ جاتا ہے اور دل دھل جاتا ہے پھر احساس ہوتا ہے ‘ پھر آنکھ کھلتی ہے کہ اب تک کیسی زندگی بسر کرتا رہا۔



















































