خواجہ عبدالمالک صدیقی ایک مرتبہ اکوڑہ خٹک کے مدرسہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہاں علماء کا پندرہ روزہ تربیتی کیمپ لگا ہوا تھا ایک عالم نے ان سے سوال کیا کہ حضرت! میں نے یہ نوٹ کیا ہے کہ آپ جب بھی نماز پڑھانے کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اقامت ہو جاتی ہے مگر آپ جلدی نیت نہیں باندھتے‘
تھوڑا سا ٹھہر کر نیت باندھتے ہیں اس میں کیا حکمت ہے؟ حضرت رحمتہ اللہ علیہ یہ بات سن کر مسکرائے اور فرمایا کہ آپ لوگ تو علماء ہیں آپ کی توجہ الی اللہ کی کیفیت ہر وقت بنی رہتی ہے۔ مگر میں تو فقیر آدمی ہوں۔ نماز پڑھانے کیلئے مصلیٰ پر کھڑا ہوتا ہوں تو جب تک مجھے سامنے بیت اللہ نظر نہیں آتا‘ میں اس وقت تک نماز کی نیت نہیں باندھتا۔ سبحان اللہ
حضرت شاہ حسین احمد رحمتہ اللہ علیہ کی استغراقی کیفیت
شاہ حسین احمدؒ پر اللہ تعالیٰ نے فنائیت کا ایسا پرتو ڈال دیا تھا کہ ہر وقت اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے تھے ان کے ایک داماد کا نام اللہ بندہ تھا۔ دو سال تک وہ ان کے پاس رہا جب سامنے سے گزرتا تو حضرت شاہ حسین احمدؒ پوچھتے‘ ارے میاں تم کون؟ کہتا حضرت! میں آپ کا داماد اللہ بندہ ہوں۔ فرماتے ارے میاں! سبھی تو اللہ کے بندے ہیں دو سال تک داماد کا نام یاد نہ ہوا ذکر کی فنائیت ایسی تھی کہ دل میں ایک اللہ تعالیٰ کا نام بس چکا تھا۔ ایسی نابغہ روزگارشخصیت نے دارالعلوم دیوبند کی پہلی اینٹ رکھی۔ ایسی نابغہ روزگارشخصیت نے دارالعلوم دیوبند کی پہلی اینٹ رکھی۔



















































