مام ربانی مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم تین پیر بھائی تھے‘ ہم تینوں کا اپنے شیخ خواجہ باقی اللہ کے بارے میں علیحدہ علیحدہ گمان تھا‘ فرماتے ہیں کہ خواجہ باقی اللہ خاموش طبع تھے لہٰذا بہت کم بات کرنے کی وجہ سے ہمارے ایک پیر بھائی سمجھتے تھے کہ میرے شیخ کامل تو ہیں مگر صاحب ارشاد نہیں ہیں‘ دعوت و ارشاد میں اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو قطب ارشاد بنا دیتے ہیں اور ان بیان کلمات سے اللہ تعالیٰ ہزاروں انسانوں کے دلوں کی دنیا کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔
ان میں سے دوسرے کا گمان یہ تھا کہ خود تو کامل ہیں مگر وہ دوسروں کو کامل نہیں بنا پاتے کیونکہ کم بولتے تھے کسی نے ایک دفعہ ان سے کہا حضرت! آپ بات کیا کریں تاکہ لوگوں کو فائدہ ہو‘ حضرت نے عجیب بات کہی فرمایا جس نے ہماری خاموشی سے کچھ نہیں پایا‘ وہ ہماری باتوں سے بھی کچھ نہیں پائے گا۔
اللہ تعالیٰ اپنے بعض اولیاء کی ایسی حالت بنا دیا کرتے ہیں کہ وہ ’’من عرف ربہ طال لسانہ‘‘ کے مصداق بن جاتے ہیں اور ایک حدیث پاک میں آیا ہے ’’من عرف ربہ طال لسانہ‘‘ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت ملتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے دیدارمیں ایسے مست ہو جاتے ہیں کہ ان کی مخلوق کے ساتھ کلام کرنے کی کیفیت کم ہوتی ہے اور پروردگار عالم کی طرف ان کے رجحانات کی نسبت زیادہ رہتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے دیدار میں ہی مست رہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تیسرا میں تھا اور میرا اپنے شیخ کے بارے میں گمان یہ تھا کہ میرے شیخ اتنے کامل ہیں کہ اس سے پہلے اگر اس امت میں کسی کو کوئی کامل شیخ ملا ہے تو وہ سیدناصدیق اکبر کو نبی علیہ السلام ملے ہیں اور صدیق اکبرؓ کے بچد اگر کسی کو کوئی کامل شیخ ملا ہے تو پھر مجھے میرے شیخ ملے ہیں فرماتے ہیں میرے ساتھی تو پتہ نہیں کدھر گئے مگر میرے اس گمان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مجھے مجدد الف ثانی بنا دیا یعنی مجھے دوسرے ہزار سال کا مجدد بنا دیا۔



















































